Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Anbiya' 21:68

21:68
قالوا حرقوه وانصروا الهتكم ان كنتم فاعلين ٦٨
قَالُوا۟ حَرِّقُوهُ وَٱنصُرُوٓا۟ ءَالِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَـٰعِلِينَ ٦٨
قَالُواْ
حَرِّقُوهُ
وَٱنصُرُوٓاْ
ءَالِهَتَكُمۡ
إِن
كُنتُمۡ
فَٰعِلِينَ
٦٨
Mereka berkata, "Bakarlah dia dan bantulah tuhan-tuhan kamu, jika kamu benar-benar hendak berbuat."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 21:68 hingga 21:70

جو لوگ اختیارات کے مالک ہوتے ہیں وہ دلیل کے میدان میں ہار جانے کے بعد ہمیشہ ظلم کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی حضرت ابراہیم کے ساتھ ہوا۔ بت شکنی کے واقعہ کے بعد جب قوم کے لیڈروں نے محسوس کیا کہ وہ ابراہیم کے مقابلہ میں بے دلیل ہو چکے ہیں تو اب انھوںنے آپ کے اوپر سختیاں شروع کردیں۔ یہاں تک کہ طاقت کے گھمنڈ میں آکر ایک روز آپ کو آگ کہ الاؤ میں ڈال دیا۔

مگر خدا کا پیغمبر دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کا معاملہ خدا کا معاملہ ہوتاہے۔ اس لیے خدا استثنائی طورپر پیغمبر کی غیر معمولی مدد کرتاہے۔ چنانچہ خدا نے حکم دیا اور آگ آپ کے ليے ٹھنڈی ہو گئی۔ اس نوعیت کی نصرت غیر پیغمبروں کے لیے بھی نازل ہوسکتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ کے ساتھ اس حد تک وابستہ کریں جس طرح پیغمبر اس کے ساتھ اپنے کو وابستہ کرتا ہے۔