Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: At-Tahrim 66:11

66:11
وضرب الله مثلا للذين امنوا امرات فرعون اذ قالت رب ابن لي عندك بيتا في الجنة ونجني من فرعون وعمله ونجني من القوم الظالمين ١١
وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱمْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ٱبْنِ لِى عِندَكَ بَيْتًۭا فِى ٱلْجَنَّةِ وَنَجِّنِى مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِۦ وَنَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ١١
وَضَرَبَ
ٱللَّهُ
مَثَلٗا
لِّلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
ٱمۡرَأَتَ
فِرۡعَوۡنَ
إِذۡ
قَالَتۡ
رَبِّ
ٱبۡنِ
لِي
عِندَكَ
بَيۡتٗا
فِي
ٱلۡجَنَّةِ
وَنَجِّنِي
مِن
فِرۡعَوۡنَ
وَعَمَلِهِۦ
وَنَجِّنِي
مِنَ
ٱلۡقَوۡمِ
ٱلظَّٰلِمِينَ
١١
Dan Allah membuat perumpamaan bagi orang-orang yang beriman, istri Fir'aun, ketika dia berkata, "Ya Tuhanku, bangunkanlah untukku satu rumah di sisi-Mu dalam surga dan selamatkanlah aku dari Fir'aun dan perbuatannya, dan selamatkanlah aku dari kaum yang zalim,"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 66:9 hingga 66:12

فرعون ایک کافر اور ظالم شخص تھا۔ مگر اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ایمان دار اور باعمل خاتون تھی۔ بیوی نے جب اپنے آپ کو صحیح روش پر قائم رکھا تو شوہر کی غلط روش اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکی۔ شوہر جہنم میں داخل کیا گیا اور بیوی کو جنت کے باغوں میں جگہ ملی۔

أَحْصَنَتْ فَرْجَهَادر اصل کنایہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا۔ بچپن سے جوانی تک وہ پوری طرح بے داغ رہیں۔ چنانچہ اللہ نے ان کو معجزاتی پیغمبر کی پیدائش کے لیے چنا۔ بعض روایات کے مطابق جبریل فرشتہ نے ان کے گریبان میں پھونک ماری، جس سے استقرار حمل ہوا اور پھر حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے۔