Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Anbiya' 21:32

21:32
وجعلنا السماء سقفا محفوظا وهم عن اياتها معرضون ٣٢
وَجَعَلْنَا ٱلسَّمَآءَ سَقْفًۭا مَّحْفُوظًۭا ۖ وَهُمْ عَنْ ءَايَـٰتِهَا مُعْرِضُونَ ٣٢
وَجَعَلۡنَا
ٱلسَّمَآءَ
سَقۡفٗا
مَّحۡفُوظٗاۖ
وَهُمۡ
عَنۡ
ءَايَٰتِهَا
مُعۡرِضُونَ
٣٢
Dan Kami menjadikan langit sebagai atap yang terpelihara, namun mereka tetap berpaling dari tanda-tanda (kebesaran Allah) itu (matahari, bulan, angin, awan, dan lain-lain).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

وجعلنا فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ یھتدون (12 : 13) ” اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کریں “۔ پہاڑروں کے درمیان کشادہ راہیں اور وادیاں ہیں تاکہ لوگ انمیں اپنے راستے متعین کریں۔ یہاں وادیوں اور شاہراہوں کا پہلا مفہوم تو یہ ہے کہ لوگ اس میں چلنے پھرنے کے راستے معلوم کریں لیکن اس میں ایک خفیہ سا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ ان ظاہری راستوں سے وہ راہ ہدایت بھی معلوم کریں کیونکہ یہ پوری کائنات انسان کے لیے راہ ہدایت فراہم کرتی ہے۔

وجعلنا السمآء سقفا محفوظا (12 : 23) ” اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا “۔ آسمان سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اوپر نظر آئے۔ ہم جب سر کی سمت دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنے اوپر نیلی چھت نظر آتی ہے۔ قرآن کریم اسے سقف محفوظ کہتا ہے۔ یہ سقف اس کائنات کے نہایت ہی حساس نظام کی حفاظت کررہا ہے اور یہ سقف ان ناپاکیوں سے بھی محفوظ ہے اور ان کمزوریوں سے بھی محفوظ ہے جو زمین میں ہیں۔ اوپر کا نظام اس طرح محفوظ ہے کہ آیات قرآنی نہایت ہی حفاظت سے اترتی ہیں۔

وھم عن ایتھا معرضون (12 : 23) ” مگر یہ لوگ کائنات کی نشانیوں کی طرف توجہ نہیں دیتے “۔ حالانکہ عقل کے لیے یہ ایک وسیع میدان ہے کہ کائنات میں آیات الہیہ تلاش کرے۔