Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Anbiya' 21:58

21:58
فجعلهم جذاذا الا كبيرا لهم لعلهم اليه يرجعون ٥٨
فَجَعَلَهُمْ جُذَٰذًا إِلَّا كَبِيرًۭا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ ٥٨
فَجَعَلَهُمۡ
جُذَٰذًا
إِلَّا
كَبِيرٗا
لَّهُمۡ
لَعَلَّهُمۡ
إِلَيۡهِ
يَرۡجِعُونَ
٥٨
Maka dia (Ibrahim) menghancurkan (berhala-berhala itu) berkeping-keping, kecuali yang terbesar (induknya); agar mereka kembali (untuk bertanya) kepadanya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 21:55 hingga 21:58

حضرت ابراہیم کے زمانے میں مشرکانہ تخیلات لوگوں کے ذہنوں پر اتنا زیادہ چھائے ہوئے تھے کہ ابتداء ً وہ حضرت ابراہیم کی تنقید کو غیر سنجیدہ بات سمجھے۔ انھوں نے کہا کہ تم کوئی سوچی سمجھی بات کہہ رہے ہو یا محض تفریح کے طورپر کچھ الفاظ اپنی زبان سے نکال رہے ہو۔

حضرت ابراہیم نے کہا کہ یہ تمھاری مزید ناسمجھی ہے کہ تم اس اہم ترین بات کو غیر سنجیدہ بات سمجھ رہے ہو۔ حالاں کہ تمام زمین و آسمان اس کے حق میں گواہی دے رہے ہیں۔ اگلے دن انھوں نے مزید یہ کیا کہ غیر معمولی جرأت سے کام لے کر ان کے بتوں کو توڑ ڈالا۔ اس طرح گویا حضرت ابراہیم نے عملاً دکھادیا کہ یہ بت فی الواقع بھی اتنے ہی بے حقیقت ہیں جتنا میں نے لفظی طورپر تمھیں بتایا تھا۔