Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Kahf 18:110

18:110
قل انما انا بشر مثلكم يوحى الي انما الاهكم الاه واحد فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه احدا ١١٠
قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ فَمَن كَانَ يَرْجُوا۟ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًۭا صَـٰلِحًۭا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدًۢا ١١٠
قُلۡ
إِنَّمَآ
أَنَا۠
بَشَرٞ
مِّثۡلُكُمۡ
يُوحَىٰٓ
إِلَيَّ
أَنَّمَآ
إِلَٰهُكُمۡ
إِلَٰهٞ
وَٰحِدٞۖ
فَمَن
كَانَ
يَرۡجُواْ
لِقَآءَ
رَبِّهِۦ
فَلۡيَعۡمَلۡ
عَمَلٗا
صَٰلِحٗا
وَلَا
يُشۡرِكۡ
بِعِبَادَةِ
رَبِّهِۦٓ
أَحَدَۢا
١١٠
Katakanlah (Muhammad), "Sesungguhnya aku ini hanya seorang manusia seperti kamu, yang telah menerima wahyu, bahwa sesungguhnya Tuhan kamu adalah Tuhan Yang Maha Esa." Maka barang siapa mengharap pertemuan dengan Tuhannya maka hendaklah dia mengerjakan kebajikan dan janganlah dia mempersekutukan dengan sesuatu pun dalam beribadah kepada Tuhannya."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

یہ ہے مقام الوہیت کا افق بعید ، افق بلند۔ اس کے مقابلے میں انسانی علم کا افق بہت ہی نیچے ہے۔ کیونکہ علم نبوی ہو ، بہرحال نبی بشر ہی تو ہوتا ہے۔

قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی (81 : 011) ” اے نبی کہو میں تو ایک انسان ہی ہوں تم ہی جیسا میری طرف وحی کی جاتی۔ “ بس یہی فرق ہے میرے اور تمہارے درمیان کہ میں باری تعالیٰ کے بلند آفاق علم سے کچھ حاصل کرتا رہتا ہوں۔ اس دائمی سرچشمے سے میں علم حاصل کرتا ہوں۔ میں ان ہدایات سے سرمو انحراف نہیں کرسکتا جو مجھے عالم بالا سے ملتی ہیں۔ میں انسان ہوں ، پہلے خود سیکھتا ہوں ، پھر سکھاتا ہوں لہٰذا جو شخص ان بلند علوم کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ ان علوم سے فائدہ اٹھائے جو اس سرچشمے سے رسول اللہ ﷺ نے سکھائے۔ انسانوں کو چاہئے کہ وہ حصول علوم کے لئے سرچشمہ نبوت سے سیراب ہوں اور اس کے سواتمام سرچشموں کو چھوڑ دیں۔

فمن کان یرجوالقآء ربعہ فلیعمل عملاً صالحاً ولایشرک بعبادۃ ربہ احداً (81 : 011) ” پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو ، اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ “

بار گاہ الٰہی کی بلند مملکت میں داخل ہونے کے لئے علم نبوت ویزا ہیں۔ اس سورة کا آغاز بھی مضمون وحی اور توحید سے ہوا تھا۔ خاتمہ بھی علوم الہیہ کے سلسلے میں ان اہم ہدایات سے ہوا اور انسانی شعور و آگہی کے تاروں کو یوں چھیڑا گیا کہ ان سے وہ نغمات حقیقت بلند ہونے لگے جو اس کائنات کے راز کو ظاہر کرتے ہیں۔ عظیم راز یعنی وحی الٰہی و توحید مطلق کے راز۔