Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Kahf 18:37

18:37
قال له صاحبه وهو يحاوره اكفرت بالذي خلقك من تراب ثم من نطفة ثم سواك رجلا ٣٧
قَالَ لَهُۥ صَاحِبُهُۥ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَكَفَرْتَ بِٱلَّذِى خَلَقَكَ مِن تُرَابٍۢ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍۢ ثُمَّ سَوَّىٰكَ رَجُلًۭا ٣٧
قَالَ
لَهُۥ
صَاحِبُهُۥ
وَهُوَ
يُحَاوِرُهُۥٓ
أَكَفَرۡتَ
بِٱلَّذِي
خَلَقَكَ
مِن
تُرَابٖ
ثُمَّ
مِن
نُّطۡفَةٖ
ثُمَّ
سَوَّىٰكَ
رَجُلٗا
٣٧
Kawannya (yang beriman) berkata kepadanya sambil bercakap-cakap dengannya, "Apakah engkau ingkar kepada (Tuhan) yang menciptakanmu dari tanah, kemudian dari setetes air mani, lalu Dia menjadikanmu seorang laki-laki yang sempurna?
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 18:36 hingga 18:41

ایک نفس مومن کے اندر ایمانی عزت نفس اس طرح جاگ اٹھتی ہے اس لئے اسے کسی کے مال اور دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی وہ کسی کی دولت اور اس کی گردن فرازی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ سچائی کی بات صاف صاف کرتا ہے اور حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا۔ ایک سچے مومن کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ جاہ و مال کے مقابلے میں غالب اور بھاری ہے اور یہ کہ اس دنیا کے سازو سامان کے مقابلے میں اس کے لئے قیامت میں جو اجر ہے وہ زیادہ قیمتی ہے یہ کہ وہ اللہ کا فضل چاہتا ہے اور اس کا فضل عظیم ہے اور یہ کہ اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے اور وہ کسی بھی وقت ایسے غافلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

اچاک سرسبزی اور شادابی کے ان مناظر سے نکل کر ہم لوگ تباہی اور بربادی کے مناظر میں داخل ہوتے ہیں۔ تکبر اور اشکبار کے منظر کے بجائے اب ندامت اور اللہ سے مغفرت طلب کا منظر آجاتا ہے۔ وہ بات اب سامنے آجاتی ہے جس کی توقع یہ رجل مومن رکھتا تھا۔