Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Kahf 18:63

18:63
قال ارايت اذ اوينا الى الصخرة فاني نسيت الحوت وما انسانيه الا الشيطان ان اذكره واتخذ سبيله في البحر عجبا ٦٣
قَالَ أَرَءَيْتَ إِذْ أَوَيْنَآ إِلَى ٱلصَّخْرَةِ فَإِنِّى نَسِيتُ ٱلْحُوتَ وَمَآ أَنسَىٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيْطَـٰنُ أَنْ أَذْكُرَهُۥ ۚ وَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِى ٱلْبَحْرِ عَجَبًۭا ٦٣
قَالَ
أَرَءَيۡتَ
إِذۡ
أَوَيۡنَآ
إِلَى
ٱلصَّخۡرَةِ
فَإِنِّي
نَسِيتُ
ٱلۡحُوتَ
وَمَآ
أَنسَىٰنِيهُ
إِلَّا
ٱلشَّيۡطَٰنُ
أَنۡ
أَذۡكُرَهُۥۚ
وَٱتَّخَذَ
سَبِيلَهُۥ
فِي
ٱلۡبَحۡرِ
عَجَبٗا
٦٣
Dia (pembantunya) menjawab, "Tahukah engkau ketika kita mencari tempat berlindung di batu tadi, maka aku lupa (menceritakan tentang) ikan itu dan tidak ada yang membuat aku lupa untuk mengingatnya kecuali setan, dan (ikan) itu mengambil jalannya ke laut dengan cara yang aneh sekali."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 18:61 hingga 18:63

راجح بات یہ ہے کہ یہ مچھلی بھونی ہوئی تھی اور اس کا زندہ رہنا اور پھر اس کا سمندر کے اندر عجیب انداز میں گم ہوجانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ایک نشانی تھی۔ اس کے ذریعے اللہ نے ان کو بتانا تھا کہ عبدصالح کا مقام یہی ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے نوکر نے جو بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے قابل تعجب انداز میں سمندر میں اپنی راہ لی تھی۔ یہ بات کہ زندہ مچھلی اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ سمندر میں چلی گی تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ سبب ترجیح یہ ہے کہ یہ سفر سب کا سب غیبی معجزات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ان میں سے ایک معجزہ تھا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ عبدصالح کے مقام سے وہ آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس سے ملاقات اس پتھر کے پاس ہوگی۔ چناچہ وہ واپس ہوئے اور وہاں ان کو عبد صلح انتظار کرتے ہوئے ملے۔