Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Az-Zumar 39:45

39:45
واذا ذكر الله وحده اشمازت قلوب الذين لا يومنون بالاخرة واذا ذكر الذين من دونه اذا هم يستبشرون ٤٥
وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَحْدَهُ ٱشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦٓ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ٤٥
وَإِذَا
ذُكِرَ
ٱللَّهُ
وَحۡدَهُ
ٱشۡمَأَزَّتۡ
قُلُوبُ
ٱلَّذِينَ
لَا
يُؤۡمِنُونَ
بِٱلۡأٓخِرَةِۖ
وَإِذَا
ذُكِرَ
ٱلَّذِينَ
مِن
دُونِهِۦٓ
إِذَا
هُمۡ
يَسۡتَبۡشِرُونَ
٤٥
Dan apabila yang disebut hanya nama Allah, kesal sekali hati orang-orang yang tidak beriman kepada akhirat. Namun apabila nama-nama sembahan selain Allah yang disebut, tiba-tiba mereka menjadi bergembira.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت نمبر 45

یہ ایک حقیقی صورت حال کی نقشہ کشی ہے جو حضور اکرم ﷺ کے دور میں موجود تھی۔ اس وقت صورت یہ تھی کہ جب مشرکین کے خداؤں کا ذکر احترم سے کیا جاتا تو یہ مشرکین کھل اٹھتے اور بہت خوش ہوتے ۔ اور جب کلمہ توحید کا بیان ہوتا تو یہ لوگ مرجھا جاتے اور ان کی طبیعت میں انقباض پیدا ہوجاتا ۔۔۔۔ لیکن یہ ایک نفسیاتی حالت ہے جو ہر زمان ومکان میں پائی جاتی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ وحدہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے اور صرف اللہ کی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جائے اور صرف اسلامی نظام اور اسلامی دستور ومنشور کی بات کی جائے تو ان کو سخت انقباض ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں جب انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ہائے زندگی کی بات کی جائے ، انسانی قوانین کی بات کی جائے تو وہ بہت ہی خوش ہوتے ہیں ، کھل اٹھتے ہیں اور ایسی باتوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تصویر کشی اس آیت میں کی گئی ہے۔ یہ لوگ ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔ ان کے مزاج میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ اور یہ لوگ ضال اور مضل ہیں۔ اگرچہ کوئی معاشرہ حضور اکرم ﷺ کے معاشرے سے مختلف ہو۔ اگرچہ ان کی جنس اور قوم عربوں سے جدا ہو۔ ایسے منحرفین ، گمراہوں اور بگڑے ہوئے لوگوں کا جواب وہی ہے جو اللہ نے حضور ﷺ کو بتایا تھا جب آپ کو ایسے حالات سے مقابلہ درپیش تھا۔