Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: At-Tawbah 9:125

9:125
واما الذين في قلوبهم مرض فزادتهم رجسا الى رجسهم وماتوا وهم كافرون ١٢٥
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كَـٰفِرُونَ ١٢٥
وَأَمَّا
ٱلَّذِينَ
فِي
قُلُوبِهِم
مَّرَضٞ
فَزَادَتۡهُمۡ
رِجۡسًا
إِلَىٰ
رِجۡسِهِمۡ
وَمَاتُواْ
وَهُمۡ
كَٰفِرُونَ
١٢٥
Dan adapun orang-orang yang di dalam hatinya ada penyakit,1 maka (dengan surah itu) akan menambah kekafiran mereka yang telah ada dan mereka akan mati dalam keadaan kafir.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 9:124 hingga 9:125
فرمان الہٰی میں شک و شبہ کفر کا مرض ہے ٭٭

قرآن کی کوئی سورت اتری اور منافقوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ بتاؤ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کر دیا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانداروں کے ایمان تو اللہ کی آیتیں بڑھا دیتی ہیں۔ یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس پر کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔

اکثر ائمہ اور علماء کا یہی مذہب ہے، سلف کا بھی اور خلف کا بھی۔ بلکہ بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو خوب تفصیل سے شرح بخاری کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔ ہاں جن کے دل پہلے ہی سے شک و شبہ کی بیماری میں ہیں ان کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے لیکن کافر تو اس سے اور بھی اپنا نقصان کر لیا کرتے ہیں۔ [17-الإسراء:82] ‏ یہ ایمانداروں کے لیے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے تو کانوں میں بوجھ ہے۔ ان کی آنکھوں پر اندھاپا ہے وہ تو بہت ہی فاصلے سے پکارے جا رہے ہیں۔ [41-فصلت:44] ‏

یہ بھی کتنی بڑی بدبختی ہے کہ دلوں کی ہدایت کی چیز بھی ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمدہ غذا بھی بدمزاج کو موافق نہیں آتی۔

صفحہ نمبر3635