Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: At-Tawbah 9:50

9:50
ان تصبك حسنة تسوهم وان تصبك مصيبة يقولوا قد اخذنا امرنا من قبل ويتولوا وهم فرحون ٥٠
إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌۭ تَسُؤْهُمْ ۖ وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌۭ يَقُولُوا۟ قَدْ أَخَذْنَآ أَمْرَنَا مِن قَبْلُ وَيَتَوَلَّوا۟ وَّهُمْ فَرِحُونَ ٥٠
إِن
تُصِبۡكَ
حَسَنَةٞ
تَسُؤۡهُمۡۖ
وَإِن
تُصِبۡكَ
مُصِيبَةٞ
يَقُولُواْ
قَدۡ
أَخَذۡنَآ
أَمۡرَنَا
مِن
قَبۡلُ
وَيَتَوَلَّواْ
وَّهُمۡ
فَرِحُونَ
٥٠
Jika engkau (Muhammad) mendapat kebaikan, mereka tidak senang; tetapi jika engkau ditimpa bencana, mereka berkata, "Sungguh, sejak semula kami telah berhati-hati (tidak pergi berperang)," dan mereka berpaling dengan (perasaan) gembira.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ رسول اللہ اور مسلمانوں کی بھلائی نہیں چاہتے اور اس بات پر بہت کڑھتے ہیں کہ رسول اللہ اور مسلمانوں کو کوئی برتری نصیب ہو۔ اگر مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے تو یہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرلی تھیں اس لیے ہم بچ گئے اور ہمیں ان مشکلات سے دوچار ہونا نہ پڑا اور اپنی جگہ یہ خوشیاں مناتے ہیں۔

لیکن یہ بہت ہی کم عقل ہیں صرف ظاہری باتوں پر ان کی نظر ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ مصائب ہر حال میں برے ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں گھروں میں بیٹھ کر اور جہاد سے پیچھے رہ کر انہوں نے بھلائی کما لی۔ حالانکہ ان کے دلوں میں اطاعت الٰہی نہ رہی اور انہوں نے رضائے الہی کے مقصد عظیم کو گنوادیا۔ حالانکہ ان کی بھلائی تو تسلیم و رضا اور جہاد میں تھی۔ ایک سچا مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے ، آگے ہی بڑھتا ہے اور ڈرتا نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ خیر و شر تو اللہ کی طرف سے آتا ہے اور اللہ ہی ناصر اور معین ہے۔