Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Asy-Syu'ara' 26:178

26:178
اني لكم رسول امين ١٧٨
إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌۭ ١٧٨
إِنِّي
لَكُمۡ
رَسُولٌ
أَمِينٞ
١٧٨
Sungguh, aku adalah rasul kepercayaan (yang diutus) kepadamu,
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 26:176 hingga 26:184

’’ایکہ‘‘ کے لفظی معنی جنگل کے ہیں۔یہ تبوک کا پرانا نام ہے۔ قوم شعیب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھی۔ وہ جس علاقہ میں آباد ہوئی، اس کا مرکزی شہر تبوک تھا۔ اسی ليے قرآن میں اس کو اصحاب ایکہ کہا گیا ہے۔

تمام اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں کی جڑ ’’میزان‘‘ میں فرق کرناہے۔ صحیح میزان (ترازو) یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو وہ دے جو از روئے حق انھیں دیناچاہيے۔ اور اپنے ليے وہ لے جو از روئے حق اسے لینا چاہيے۔ یہی خدائی میزان ہے۔ جب اس میزان میں فرق کیا جاتا ہے تو اسی وقت اجتماعی زندگی میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ تاہم اس میزان پر قائم ہونے کا راز اللہ کا خوف ہے۔ اگر اللہ کا ڈر دل سے نکل جائے تو کوئی چیزآدمی کو میزان پر قائم نہیں رکھ سکتی۔

خداکی طرف سے جتنے رسول آئے سب نے اپنی مخاطب قوموں سے کہا کہ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ(میں تمھارے ليے ایک معتبر رسول ہوں)۔ اس سے اندازه ہوتاہے کہ داعی کے اندر اعتباریت (credibility)کی صفت لازمی طورپر موجود ہونا چاہيے۔ اسی اعتباریت کا ایک پہلو یہ ہے کہ داعی اپنی مدعو قوم سے معاشی اور مادی جھگڑا نہ چھیڑے تاکہ اس کی بے غرض مقصدیت مشتبہ نہ ہو۔ یہ اعتباریت اتنی اہم ہے کہ اس کو ہر حال میں حاصل کرنا ضروری ہے۔ خواہ اس کی خاطر داعی کو اپنے مادی حقوق سے یک طرفہ طورپر دست بردار ہونا پڑے۔