Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Isra' 17:52

17:52
يوم يدعوكم فتستجيبون بحمده وتظنون ان لبثتم الا قليلا ٥٢
يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِۦ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًۭا ٥٢
يَوۡمَ
يَدۡعُوكُمۡ
فَتَسۡتَجِيبُونَ
بِحَمۡدِهِۦ
وَتَظُنُّونَ
إِن
لَّبِثۡتُمۡ
إِلَّا
قَلِيلٗا
٥٢
Yaitu pada hari (ketika) Dia memanggil kamu, dan kamu mematuhi-Nya sambil memuji-Nya dan kamu mengira, (rasanya) hanya sebentar saja kamu berdiam (di dalam kubur).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 17:49 hingga 17:52

انسان کا وجود اول واضح طور پر اس کے وجود ثانی کو ممکن ثابت کرتاہے۔ جو شخص انسان کی پہلی پیدائش کو بطور واقعہ مانتا ہو، اس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں جس سے وہ انسان کی دوسری پیدائش کے امکان کو نہ مانے۔

پھر یہ کہ انسان کی پیدائشِ ثانی، کم ازکم ان لوگوں کے لیے ہر گز مستبعد نہیں جو انسان کو پتھر اور لوہا (بالفاظ دیگر مادی اشیاء کا مجموعہ) سمجھتے ہیں کیوں کہ جسم کے خليات(cells) کے ٹوٹنے کے ساتھ اسی معلوم دنیا میں یہ واقعہ ہورہاہے کہ آدمی کا مادی وجود مسلسل ختم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حشر ونشر اسی واقعہ کو موت کے بعد ماننا ہے جس کا موت سے پہلے ہم بار بار تجربہ کررہے ہیں۔

قیامت دراصل اسی دن کا نام ہے جب کہ غیب کا پردہ پھٹ جائے اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ بالکل سامنے آجائے۔ جب ایسا ہوگا تو منکر بھی وہی کرنے پر مجبور ہوگا جو آج صرف سچا مومن کرپاتاہے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کے کمالات کااقرار کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔