Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Isra' 17:84

17:84
قل كل يعمل على شاكلته فربكم اعلم بمن هو اهدى سبيلا ٨٤
قُلْ كُلٌّۭ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِۦ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ سَبِيلًۭا ٨٤
قُلۡ
كُلّٞ
يَعۡمَلُ
عَلَىٰ
شَاكِلَتِهِۦ
فَرَبُّكُمۡ
أَعۡلَمُ
بِمَنۡ
هُوَ
أَهۡدَىٰ
سَبِيلٗا
٨٤
Katakanlah (Muhammad), "Setiap orang berbuat sesuai dengan pembawaannya masing-masing." Maka Tuhanmu lebih mengetahui siapa yang lebih benar jalannya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

یہاں نہایت ہی نرم الفاط میں تنبیہ کی گئی ہے اور ہر شخص کا ڈرایا گیا ہے کہ وہ اپنے رحجان ، طرز عمل اور نظام زندگی کے بارے میں اچھی طرح غور کرلے ، احتیاط کرے اور یہ تسلی کرلے کہ اس کا طرز عمل ، نظام فکر اور نظام زندگی اسلامی ہدایات کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ہے تو اسے اللہ کے راستے کی طرف لوٹ آنا چاہیے۔

بعض لوگ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے تھے کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ لیکن قرآن کریم کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے کہ جن کی ان کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور انسانی عقل اور قوت مدر کہ ان ہدایات یا ان موضوعات کو سمجھ سکے اور سہولت کے ساتھ اپنی گرفت میں لے سکے۔ لہٰذا اسلام اور قرا ان فکری قوت کو ان موضوعات پر ضائع نہیں کرتا جن کا انسان کو کوئی فائدہ نہیں ، کوئی ضرورت نہیں یا جن موضوعات پر عقل کو رسائی حاصل نہیں ہے جب ان لوگوں نے روح کے بارے میں پوچھا اللہ نے سیدھا سادا جواب دیا کہ روح امر الٰہی ہے اور اس سلسلے میں تمہیں بہت کم علم دیا گیا ہے ۔