Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Saba' 34:15

34:15
لقد كان لسبا في مسكنهم اية جنتان عن يمين وشمال كلوا من رزق ربكم واشكروا له بلدة طيبة ورب غفور ١٥
لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍۢ فِى مَسْكَنِهِمْ ءَايَةٌۭ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍۢ وَشِمَالٍۢ ۖ كُلُوا۟ مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لَهُۥ ۚ بَلْدَةٌۭ طَيِّبَةٌۭ وَرَبٌّ غَفُورٌۭ ١٥
لَقَدۡ
كَانَ
لِسَبَإٖ
فِي
مَسۡكَنِهِمۡ
ءَايَةٞۖ
جَنَّتَانِ
عَن
يَمِينٖ
وَشِمَالٖۖ
كُلُواْ
مِن
رِّزۡقِ
رَبِّكُمۡ
وَٱشۡكُرُواْ
لَهُۥۚ
بَلۡدَةٞ
طَيِّبَةٞ
وَرَبٌّ
غَفُورٞ
١٥
Sungguh, bagi kaum Saba` ada tanda (kebesaran Tuhan) di tempat kediaman mereka yaitu dua buah kebun di sebelah kanan dan di sebeleh kiri, (kepada mereka dikatakan), "Makanlah olehmu dari rezeki yang (dianugerahkan) Tuhanmu dan bersyukurlah kepada-Nya. (Negerimu) adalah negeri yang baik (nyaman) sedang (Tuhanmu) adalah Tuhan Yang Maha Pengampun."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 34:15 hingga 34:17

سبا قدیم زمانہ میں ایک نہایت ترقی یافتہ قوم تھی۔ اس کی آبادیاں موجودہ یمن میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کا مرکزی شہر مارب تھا۔ زمانہ قبل مسیح میں اس نے زبردست ترقی کی۔ اور تقریباً ایک ہزار سال تک عروج پر رہی۔ ایک طرف وہ لوگ خشکی اور سمندر کے ذریعہ اپنی تجارتیں پھیلائے ہوئے تھے۔ دوسری طرف انھوں نے بند بنائے۔ مارب کے قریب ان کا ایک بڑا بند تھا جو 14 میٹر اونچا اور تقریباً 600 میٹر لمبا تھا۔ اس کے ذریعہ پہاڑی نالوں کا پانی روک کر نہریں نکالی گئی تھیں۔ اور ان سے زمینوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔ اس طرح علاقہ میںاتنی سرسبزی آئی کہ آدمی جہاں کھڑا ہو تو دائیں اور بائیں اس کو باغ ہی باغ دکھائی دے۔

یہ تمام ترقیاں خدائی انتظامات کی وجہ سے ممکن ہوئیں۔ اس ليے سبا کے لوگوں کو خدا کا شکر گزار بننا چاہيے تھا۔ مگر وہ غفلت اور سرکشی میں پڑ گئے جیسا کہ عام طور پر خوش حال قوموں میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد سد مارب (Marib Dam) میں شگاف پڑنا شروع ہوا۔یہ گویا ابتدائی تنبیہہ تھی۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے بیان کے مطابق ساتویں صدی عیسوی میں ایک زلزلے نے بند کو ناقابل مرمت حد تک توڑدیا۔ اس کے نتیجہ میں ایسا سیلاب آیا جس سے پورا علاقہ تباہ ہوگیا۔ مزید یہ کہ زرخیز مٹی ختم ہوجانے کی وجہ سے یہ علاقہ بعد کو صرف جنگلی جھاڑیوں کےلیے موزوں رہ گیا۔