Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Ghafir 40:77

40:77
فاصبر ان وعد الله حق فاما نرينك بعض الذي نعدهم او نتوفينك فالينا يرجعون ٧٧
فَٱصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ ۚ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ ٧٧
فَٱصۡبِرۡ
إِنَّ
وَعۡدَ
ٱللَّهِ
حَقّٞۚ
فَإِمَّا
نُرِيَنَّكَ
بَعۡضَ
ٱلَّذِي
نَعِدُهُمۡ
أَوۡ
نَتَوَفَّيَنَّكَ
فَإِلَيۡنَا
يُرۡجَعُونَ
٧٧
Maka bersabarlah engkau (Muhammad), sesungguhnya janji Allah itu benar. Meskipun Kami perlihatkan kepadamu sebagian siksa yang Kami ancamkan kepada mereka, atau pun Kami wafatkan engkau (sebelum ajal menimpa mereka), namun kepada Kamilah mereka dikembalikan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت نمبر 77

یہ ایک جھلک ہے ، ہمیں چاہئے کہ ذدا اس پر غور کریں۔ رسول اللہ ﷺ اس دور میں مخالفین کی جانب سے کبر ، اذیت ، تکذیب اور نافرمانی کی اذیت جھیل رہے تھے۔ آپ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ کے فرائض یہ ہیں ، بس آپ ان تک اپنے آپ کو محدود کردیں ، رہے نتائج تو ان کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے یہاں تک کہ وہ مکذبین اور متکبرین کو اس دنیا میں سزا پاتے دیکھنے کی خواہش بھی یہ رکھیں۔ آپ کا فرض ہے کہ آپ حکم بجا لائیں ، اپنافریضہ ادا کردیں ، کیونکہ انجام تک کسی بات کو پہنچانا یہ داعی کا کام نہیں ہے۔ یہ اللہ کے اختیار میں ہے ، اور وہ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔

الہہ العالمین ! کس قدر بلند مقام ہے یہ ۔ کس قدر کامل آداب کی تلقین ان لوگوں کو جو دعوت اسلامی کے کام میں لگے ہوئے ہیں اور یہ کون ہیں ؟ حضور اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقاء !

نفس انسانی کے لیے یہ حکم بہت بھاری ہے۔ یہ ایک ایسا حکم ہے جو ضعیف انسان کی چاہتوں کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ حکم دینے سے بھی پہلے صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ لہٰذا یہاں دوبارہ صبر کی تلقین کا حکم دینا تکرار نہیں ہے۔ یہ ایک نئے انداز کا صبر ہے۔ یہ صبر ایذا ، تکذیب اور استہزاء سے بھی زیادہ مشکل صبر ہے۔ تمام داعیوں کو ، انسان اور بشرداعیوں کو ، یہ کہہ دینا کہ تمہارے دشمنوں کو ضرور سزا ہوگی۔ اللہ ان کو ضرور پکڑے گا لیکن شاید تم نہ دیکھ سکو ، یہ انسان کی اس خواہش کے خلاف ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو سزا پاتے دیکھے۔ یہ شدید خواہش ہوتی ہے ، جبکہ داعیوں پر مظالم ہورہے ہوں لیکن یہ آداب الہیہ ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے اپنے مختار بندوں کی تربیت ہے اور نفس انسانی کو ہر اس بات سے پاک کرنا مطلوب ہے جس میں کوئی ادنیٰ سی خواہش بھی ہو۔ اگرچہ یہ خواہش صرف یہ ہو کہ دشمنان دین کو سزا ہوجائے۔

اس نکتے پر تمام داعیان دین کو غور کرلینا چاہئے ، چاہے وہ جس زمان ومکان میں بھی ہوں ، خواہشات کے طوفانوں میں یہ کامیابی کا لنگر ہے۔ یہ خواہشات تو ابتداء میں بڑی پاکیزہ نظر آتی ہیں لیکن آخر میں شیطان ان میں گھس آتا ہے۔