Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Baqarah 2:117

2:117
بديع السماوات والارض واذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون ١١٧
بَدِيعُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًۭا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ١١٧
بَدِيعُ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۖ
وَإِذَا
قَضَىٰٓ
أَمۡرٗا
فَإِنَّمَا
يَقُولُ
لَهُۥ
كُن
فَيَكُونُ
١١٧
(Allah) Pencipta langit dan bumi. Apabila Dia hendak menetapkan sesuatu, Dia hanya berkata kepadanya, "Jadilah!" Maka jadilah sesuatu itu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آسمانوں اور زمینوں کے درمیان جو چیزیں ہیں ان میں سے اسے کسی کو بیٹا بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ لہٰذا تمام لوگ اس کی مخلوق ہے اور ایک درجے میں ہے ، اور ایک ہی حیثیت رکھتی ہے۔

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (117) ” وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جس بات کا فیصلہ کرتا ہے اس کے لئے بس صرف یہ حکم دیتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے۔ “

اللہ کا یہ ارادہ جس طرح اس ہونے والی مخلوق کے ساتھ متعلق ہوجاتا ہے ، اس کی تفصیل کی کیفیت انسانی ادراک اور فہم سے بالا ہے ۔ کیونکر یہ انسانی ادراک کے حیطہ قدرت ہی سے وراء ہے ۔ لہٰذا انسانی ادراک کی قوتوں کو ایسی ناقابل تصور کیفیات کے ادراک میں صرف کردینا ایک عبث کام ہوگا۔ اور بلا دلیل وبرہان اس وادی پرپیچ میں سرگرداں ہونے کے مترادف ہوگا۔