Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Naml 27:46

27:46
قال يا قوم لم تستعجلون بالسيية قبل الحسنة لولا تستغفرون الله لعلكم ترحمون ٤٦
قَالَ يَـٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِ ۖ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ٤٦
قَالَ
يَٰقَوۡمِ
لِمَ
تَسۡتَعۡجِلُونَ
بِٱلسَّيِّئَةِ
قَبۡلَ
ٱلۡحَسَنَةِۖ
لَوۡلَا
تَسۡتَغۡفِرُونَ
ٱللَّهَ
لَعَلَّكُمۡ
تُرۡحَمُونَ
٤٦
Dia (Saleh) berkata, "Wahai kaumku! Mengapa kamu meminta disegerakan keburukan sebelum (kamu meminta) kebaikan? Mengapa kamu tidak memohon ampunan kepada Allah, agar kamu mendapat rahmat?"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

قال یقوم لم ……ترحمون (64)

لوگوں کے دماغ اس قدر بگڑ گئیت ہے کہ سچائی کو جھٹلانے والے کہنے لگے تھے۔ اے اللہ ، اگر یہ شخص تیری طرف سے رسول ہے اور سچائی پر ہے تو ، تو ہم پر پتھروں کی بارش کر دے اور درد ناک عذاب نازل کر دے۔ “ حالانکہ ان کو کہنا یوں چاہئے تھا ” اے اللہ ، اگر یہ شخص تیری طرف سے آیا ہوا ہے اور سچا ہے تو ، تو ہمیں توفیق دے کہ ہم ایمان لے آئیں اور اس کی تصدیق کردیں۔ “

یہی حال قوم صالح کا ہوگیا تھا۔ ان کا رسول ان کو رحمت ، توبہ اور استغفار کی راہ کی طرف بلاتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں ، یہ لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں ہم تو صالح اور ان لوگوں سے تنگ آگئے ہیں جو اس کے ساتھ ہوگئے تھے کیونکہ یہ لوگ ہمارے لئے مصیبت بن گئے ہیں اور ہمیں خطرہ ہے کہ یہ لوگ ہم پر کوئی بڑی مصیبت لے آئیں گے۔