Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Naml 27:72

27:72
قل عسى ان يكون ردف لكم بعض الذي تستعجلون ٧٢
قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ ٱلَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ ٧٢
قُلۡ
عَسَىٰٓ
أَن
يَكُونَ
رَدِفَ
لَكُم
بَعۡضُ
ٱلَّذِي
تَسۡتَعۡجِلُونَ
٧٢
Katakanlah (Muhammad), "Boleh jadi sebagian dari (azab) yang kamu minta disegerakan itu telah hampir sampai kepadamu."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

قل عسی ان یکون ۔۔۔۔۔ تستعجلون (27: 72) ۔ اس طرح اللہ اور حضور اکرم ﷺ ان کے دل میں عذاب اور ہلاکت کے تصور سے خوف پیدا کرتے ہیں۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہارے اسی طرح قریب ہو اور تمہارے ساتھ لگا ہوا ہو جس طرح اونٹ پر سوار شخص کے پیچھے بیٹھا ہوا دوسرا شخص اس کے بالکل قریب ہوتا ہے۔ اور تمہیں اس کا شعور نہ ہو۔ اور اپنی غفلت اور نادانی کی وجہ سے جلدی کر رہے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے پیچھے بیٹھا ہوا ہے اور اچانک تمہیں پکڑ لے گا۔ ردیف کی طرف سے اس طرح اچانک پکڑے جانے سے انسان کا پورا جسم کانپ اٹھتا ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہیں پکڑ لے۔ اس حال میں کہ تم مزاح کر رہے ہو۔ کون جانتا ہے کہ مستقبل میں اور اگلے لمحے میں کیا ہونے والا ہے۔ کیونکہ مستقبل کا غیب تو مستور ہے۔ ہمارے اور اس کے درمیان پردے حائل ہیں۔ کسی کو کیا معلوم کہ پردوں کے پیچھے کیا ہے۔ بعض اوقات چند قوموں کے فاصلے پر ایک خوفناک صورت حالات ہوتی ہے۔ عقلمند شخص تو ہر وقت چوکنا رہتا ہے ، ڈرتا ہے اور ہر وقت اور ہر قسم کی صورت حال کے لیے تیار رہتا ہے کہ کوئی صورت بھی پیش آسکتی ہے۔