Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-A'raf 7:171

7:171
۞ واذ نتقنا الجبل فوقهم كانه ظلة وظنوا انه واقع بهم خذوا ما اتيناكم بقوة واذكروا ما فيه لعلكم تتقون ١٧١
۞ وَإِذْ نَتَقْنَا ٱلْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٌۭ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُۥ وَاقِعٌۢ بِهِمْ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَـٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ١٧١
۞ وَإِذۡ
نَتَقۡنَا
ٱلۡجَبَلَ
فَوۡقَهُمۡ
كَأَنَّهُۥ
ظُلَّةٞ
وَظَنُّوٓاْ
أَنَّهُۥ
وَاقِعُۢ
بِهِمۡ
خُذُواْ
مَآ
ءَاتَيۡنَٰكُم
بِقُوَّةٖ
وَٱذۡكُرُواْ
مَا
فِيهِ
لَعَلَّكُمۡ
تَتَّقُونَ
١٧١
Dan (ingatlah) ketika Kami mengangkat gunung ke atas mereka, seakan-akan (gunung) itu naungan awan dan mereka yakin bahwa (gunung) itu akan jatuh menimpa mereka. (Dan Kami firmankan kepada mereka), "Peganglah dengan teguh apa yang telah Kami berikan kepadamu, serta ingatlah selalu (amalkanlah) apa yang tersebut di dalamnya agar kamu menjadi orang-orang yang bertakwa."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

اس قصے کے آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو کس طرح پکڑا۔

۔۔۔

وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ ۔

یہ ناقابل فراموش عہد تھا ، کیونکہ یہ ایسے ظروف و احوال میں لیا گیا تھا جسے بھلا نہیں جاسکتا۔ یہ عہد اس وقت لیا گیا کہ جب پہاڑ ان پر اس طرح چھا گیا کہ گویا چھتری ہے۔ وہ یہی گمان کر رہے تھے کہ ابھی گرا۔ اس لیے کہ عہد لیتے ہی وہ سرکشی کرنے لگے تھے۔ اس لیے ان سے ایسی صورت میں عہد لیا گیا تھا کہ اس کے بعد وہ دوبارہ عہد شکنی کے بارے میں سوچ ہی نہ سکیں۔ ان غیر معمولی حالات میں ان سے کہا گیا کہ کتاب اللہ کو سنجیدگی سے لو۔ سختی سے اس پر عمل کرو ، اس میثاق کے بعد بد عہدی ، سست روی اور پسپائی اختیار نہ کرو ، کتاب اللہ کی ہدایات کو یاد رکھو۔ ہوسکتا ہے کہ اس طرح تمہارے دل پسیج جائیں اور تمہارا تعلق باللہ قائم رہے۔

لیکن بنی اسرائیل ، بنی اسرائیل ہی رہے۔ ان پر اللہ کی بات سچ ثابت ہوگئی تھی ، اللہ نے انہیں اپنے وقت کی سپر پاور بنا دیا تھا۔ ان پر نعمتوں کی بارش کردی تھی۔ لیکن انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا۔ اللہ کے عہد کا کوئی پاس نہ رکھا۔ ان کو میثاق الٰہی یاد ہی نہ رہا اس لیے وہ اس انجام تک پہنچے ورنہ اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔