Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Yunus 10:11

10:11
۞ ولو يعجل الله للناس الشر استعجالهم بالخير لقضي اليهم اجلهم فنذر الذين لا يرجون لقاءنا في طغيانهم يعمهون ١١
۞ وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسْتِعْجَالَهُم بِٱلْخَيْرِ لَقُضِىَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ ١١
۞ وَلَوۡ
يُعَجِّلُ
ٱللَّهُ
لِلنَّاسِ
ٱلشَّرَّ
ٱسۡتِعۡجَالَهُم
بِٱلۡخَيۡرِ
لَقُضِيَ
إِلَيۡهِمۡ
أَجَلُهُمۡۖ
فَنَذَرُ
ٱلَّذِينَ
لَا
يَرۡجُونَ
لِقَآءَنَا
فِي
طُغۡيَٰنِهِمۡ
يَعۡمَهُونَ
١١
Dan kalau Allah menyegerakan keburukan bagi manusia seperti permintaan mereka untuk menyegerakan kebaikan, pasti diakhiri umur mereka. Namun Kami biarkan orang-orang yang tidak mengharapkan pertemuan dengan Kami, bingung di dalam kesesatan mereka.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
اللہ تعالٰی اپنے احسانات کا تذکرہ فرماتے ہیں ٭٭

فرمان ہے کہ ” میرے الطاف اور میری مہربانیوں کو دیکھو، کہ بندے کبھی کبھی تنگ آ کر، گھبرا کر اپنے لیے، اپنے بال بچوں کے لیے اپنے مالک کے لیے، بد دعائیں کربیٹھتے ہیں لیکن میں انہیں قبول کرنے میں جلدی نہیں کرتا، ورنہ وہ کسی گھر کے نہ رہیں جیسے کہ میں انہی چیزوں کی برکت کی دعائیں قبول فرما لیا کرتا ہوں، ورنہ یہ تباہ ہو جاتے “۔ پس بندوں کو ایسی بدعاؤں سے پرہیز کرنا چاہیئے۔

چنانچہ مسند بزار کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اپنی جان و مال پر بد دعا نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت موافقت کر جائے اور وہ بد دعا قبول ہو جائے ۔ [سنن ابوداود:1532،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اسی مضمون کا بیان «وَيَدْعُ الإِنْسَـنُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهُ بِالْخَيْرِ» [17-الإسراء:11] ‏ میں ہے، غرض یہ ہے کہ انسان کا کسی وقت اپنی اولاد مال وغیرہ کے لیے بد دعا کرنا کہ اللہ اسے غارت کرے وغیرہ۔ ایک نیک دعاؤں کی طرح قبولیت میں ہی آ جایا کرے تو لوگ برباد ہوجائیں۔

صفحہ نمبر3659