Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Yunus 10:31

10:31
قل من يرزقكم من السماء والارض امن يملك السمع والابصار ومن يخرج الحي من الميت ويخرج الميت من الحي ومن يدبر الامر فسيقولون الله فقل افلا تتقون ٣١
قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَـٰرَ وَمَن يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ٣١
قُلۡ
مَن
يَرۡزُقُكُم
مِّنَ
ٱلسَّمَآءِ
وَٱلۡأَرۡضِ
أَمَّن
يَمۡلِكُ
ٱلسَّمۡعَ
وَٱلۡأَبۡصَٰرَ
وَمَن
يُخۡرِجُ
ٱلۡحَيَّ
مِنَ
ٱلۡمَيِّتِ
وَيُخۡرِجُ
ٱلۡمَيِّتَ
مِنَ
ٱلۡحَيِّ
وَمَن
يُدَبِّرُ
ٱلۡأَمۡرَۚ
فَسَيَقُولُونَ
ٱللَّهُۚ
فَقُلۡ
أَفَلَا
تَتَّقُونَ
٣١
Katakanlah (Muhammad), "Siapakah yang memberi rezeki kepadamu dari langit dan bumi, atau siapakah yang kuasa (menciptakan) pendengaran dan penglihatan, dan siapakah yang mengeluarkan yang hidup dari yang mati, dan mengeluarkan yang mati dari yang hidup, dan siapakah yang mengatur segala urusan?" Maka mereka akan menjawab, "Allah." Maka katakanlah, "Mengapa kamu tidak bertakwa (kepada-Nya)?"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 10:31 hingga 10:33
اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭

اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» [80-عبس:27-31] ‏ ” ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اُگاتا ہے؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی “۔

«أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ» [67-الملک:21] ‏ ” اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے “۔ «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّـهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِهِ» [6-الأنعام:46] ‏ ” کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضاء کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا “۔

اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ سب پر حاکم ہے۔ «يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ» [55-الرحمن:29] ‏ ” آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے “۔

کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بے کس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے۔ ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔ پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر3688

فاعل خود مختار اللہ کو جانتے ہوئے رب و مالک مانتے ہوئے معبود سمجھتے ہوئے پھر بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔ وہی ہے تم سب کا سچا معبود اللہ تعالیٰ وکیل ہے اس کے سوا تمام معبود باطل ہیں وہ اکیلا ہے بے شریک ہے۔ مستحق عبادت صرف وہی ہے۔ حق ایک ہی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ پس تمہیں اس کی عبادت سے ہٹ کر دوسروں کی عبادت کی طرف نہ جانا چاہیئے یاد رکھو وہی رب العلمین ہے وہی ہرچیز میں متصرف ہے۔ کافروں پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی ہے، ان کی عقل ماری گئی ہے۔ خالق رازق متصرف مالک صرف اللہ کو مانتے ہوئے اس کے رسولوں کا خلاف کر کے اس کی توحید کو نہیں مانتے۔ اپنی بدبختی سے جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔

صفحہ نمبر3689