Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Yusuf 12:109

12:109
وما ارسلنا من قبلك الا رجالا نوحي اليهم من اهل القرى افلم يسيروا في الارض فينظروا كيف كان عاقبة الذين من قبلهم ولدار الاخرة خير للذين اتقوا افلا تعقلون ١٠٩
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰٓ ۗ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ ٱلْـَٔاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ١٠٩
وَمَآ
أَرۡسَلۡنَا
مِن
قَبۡلِكَ
إِلَّا
رِجَالٗا
نُّوحِيٓ
إِلَيۡهِم
مِّنۡ
أَهۡلِ
ٱلۡقُرَىٰٓۗ
أَفَلَمۡ
يَسِيرُواْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
فَيَنظُرُواْ
كَيۡفَ
كَانَ
عَٰقِبَةُ
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِهِمۡۗ
وَلَدَارُ
ٱلۡأٓخِرَةِ
خَيۡرٞ
لِّلَّذِينَ
ٱتَّقَوۡاْۚ
أَفَلَا
تَعۡقِلُونَ
١٠٩
Dan Kami tidak mengutus sebelummu (Muhammad) melainkan orang laki-laki yang Kami berikan wahyu kepadanya di antara penduduk negeri. Tidakkah mereka bepergian di bumi lalu melihat bagaimana kesudahan orang-orang sebelum mereka (yang mendustakan rasul). Dan sungguh, negeri akhirat itu lebih baik bagi orang yang bertakwa. Tidakkah kamu mengerti?
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 12:109 hingga 12:110

تاریخ بتاتی ہے کہ جو لوگ رسالت اور پیغمبری کو مانتے تھے وہ بھی اس وقت اس کے منکر ہوگئے، جب کہ خود اپنی قوم کے اندر سے ایک شخص پیغمبر ہوکر ان کے سامنے کھڑا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ماضی کا پیغمبر تاریخی طورپر ثابت شدہ پیغمبر بن چکا ہوتاہے، جب کہ حال کا پیغمبر ایک نزاعی شخصیت ہوتاہے۔ تاریخی پیغمبر کوماننا ہمیشہ انسان کے لیے آسان ترین کام رہا ہے اور نزاعی پیغمبر کو ماننا ہمیشہ اس کے لیے مشکل ترین کام۔

عاد اور ثمود اور مدین اور قوم لوط وغیرہ کی تباہ شدہ بستیاں قریش کے آس پاس کے علاقوں میں موجود تھیں۔ وہ اپنے سفروں کے دوران ان کو دیکھتے تھے۔ یہ آثار زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ پیغمبر کو نزاعی دور میں نہ پہچاننے ہی کی وجہ سے ان قوموں پر خدا کا عذاب آیااور وہ ہلاک کردی گئیں۔ اس کے باوجود قریش نے ان سے سبق نہیں لیا۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ ایک غلط کام کرتاہے مگر کچھ خود ساختہ خیالات کی بنا پر اپنے آپ کو غلط کاروں کی فہرست سے الگ کرلیتاہے۔

سورہ یوسف کی آیت 110 کی تشریح سورہ بقرہ کی آیت 214 سے ہورہی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے— ’’کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل کرديے جاؤ گے۔ حالانکہ تم پر ابھی وہ حالات گزرے ہی نہیں جو تم سے پہلے والوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے۔یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ خدا کی مدد کب آئے گی۔ جان لو، خدا کی مدد قریب ہے‘‘۔

خدا ہمیشہ داعی کی مدد کرتاہے۔ مگر مدد مدعو کے خلاف داعی کے حق میں خدا کا فیصلہ ہوتا ہے، اسی لیے یہ مدد ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب کہ دعوتی جدوجہد اپنی تکمیل کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکی ہو، خواہ اس تاخیر کی وجہ سے دعوت دینے والوں پر مایوسی کے احساسات طاری ہونے لگیں۔

’’اور آخرت کا گھر متقیوں کے لیے زیادہ بہتر ہے‘‘— اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں اہل ایمان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ آخرت میں ان کے ساتھ كيے جانے والے سلوک کی علامت ہوتاہے۔

دنیا میں خدا حق کے داعیوں کی اس طرح مدد کرتاہے کہ ان کی بات تمام دوسری باتوں پر بلند وبالا ثابت ہوتی ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کی تمام سازشوں اور مخالفتوں کے باوجود اپنا مشن پورا کرنے میں کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔ یہی عزت اور سر بلندی ان کو آخرت میں زیادہ کامل اور معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔