Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-Hijr 15:98

15:98
فسبح بحمد ربك وكن من الساجدين ٩٨
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ ٱلسَّـٰجِدِينَ ٩٨
فَسَبِّحۡ
بِحَمۡدِ
رَبِّكَ
وَكُن
مِّنَ
ٱلسَّٰجِدِينَ
٩٨
Glorifica il tuo Signore lodandoLo e sii tra coloro che si prosternano,
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 15:94 a 15:99

موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بولنے اور کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اس لیے داعی جب خدا کی طرف بلانے کا کام شروع کرتاہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کی بے معنی باتیں کہی جاتی ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے غیر متعلق مسائل چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ ان تمام باتوں کے مقابلہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اگر وہ ایسے مواقع پر لوگوں سے لڑنے لگے تو وہ دعوتِ حق کے مثبت کام کو انجام نہیں دے سکتا۔

اس دنیا میں حق کے داعی کے لیے ایک ہی مثبت طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ وہ الجھنے والوں سے نہ الجھے۔ اور جو حق اسے ملا ہے اس کا وہ پوری طرح اعلان کردے۔ ہر اس بات کو وہ خدا کے حوالے کردے جس سے نمٹنے کی طاقت وہ اپنے اندر نہ پاتا ہو۔ دنیا کے ناموافق حالات جب اس کو ستائیں تو وہ آخرت کی طرف اپنی توجہ کو پھیر دے۔ انسانوں کی بے اعتنائی جب اس کو تنگ دل کرے تو وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجائے۔

سچے داعی کا حال یہ ہوتاہے کہ جب اس پر غم کی کوئی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ ہمہ تن خداکی طرف متوجہ ہوجاتاہے۔ جو چیز وہ انسانوں سے نہ پاسکا اس کو وہ خدا سے پانے کی کوشش کرتا ہے۔ نماز میں خدا کے سامنے کھڑے ہونے سے اس کو تسکین ملتی ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہا کر اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ خدا کے ساتھ سرگوشیوں میں مشغول ہو کر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے وہ سب کچھ پالیا جو اس کو پانا چاہیے تھا۔