Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-Isra 17:11

17:11
ويدع الانسان بالشر دعاءه بالخير وكان الانسان عجولا ١١
وَيَدْعُ ٱلْإِنسَـٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلْخَيْرِ ۖ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ عَجُولًۭا ١١
وَيَدۡعُ
ٱلۡإِنسَٰنُ
بِٱلشَّرِّ
دُعَآءَهُۥ
بِٱلۡخَيۡرِۖ
وَكَانَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
عَجُولٗا
١١
L’uomo invoca il male come invoca il bene. In verità l’uomo è frettoloso 1 .
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 17:11 a 17:12

رات اور دن کا نظام بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے تاریکی ہو اور اس کے بعد روشنی آئے۔ خدائی نقشہ میں دونوں یکساں طورپر ضروری ہیں۔ جس طرح روشنی میں فائدے ہیں اسی طرح تاریکی میں بھی فائدے ہیں۔ دنیا میں اگر رات اور دن کافرق نہ ہو تو آدمی اپنے اوقات کی تقسیم کس طرح کرے۔ وہ اپنے کام اور آرام کا نظام کس طرح بنائے۔

آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ’’تاریکی‘‘ سے گھبرائے اور صرف ’’روشنی‘‘ کا طالب بن جائے۔ کیوں کہ خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جو آدمی ایسا چاہتا ہو اس كو خدا کی دنیا چھوڑ کر اپنے لیے دوسری دنیا تلاش کرنی پڑے گی۔

مگر عجیب بات ہے کہ یہی انسان کی سب سے بڑی كمزوري ہے۔ وہ ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ اس کو تاریکی کا مرحلہ پیش نہ آئے اور فوراً ہی اس کو روشنی حاصل ہوجائے۔ اسی کمزوری کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو عجلت (جلدبازي) کہاجاتا ہے۔ عجلت دراصل خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونے کا دوسرا نام ہے۔ اور خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونا ہی تمام انسانی بربادیوں کا اصل سبب ہے۔

خدا چاہتاہے کہ انسان دنیا کی فوری لذتوں پر صبر کرے تاکہ وہ آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ مگر انسان اپنی عجلت کی وجہ سے دنیا کی وقتی لذتوں پر ٹوٹ پڑتاہے۔ وہ آگے کی طرف اپنا سفر طے نہیں کرپاتا۔ آدمی کی عاجلہ(دنيا) پسندی اس کو آخرت کی نعمتوں سے محروم کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔

یہی دنیا کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا میں بھی حقیقی کامیابی صبر سے ملتی ہے نہ کہ جلد بازی سے۔یہود کو ان کے پیغمبر یرمیاہ نے نصيحت کی کہ تم بابل کے حکمراں کے سیاسی غلبہ کو فی الحال تسلیم کرلو اور ابتدائی مرحلہ میںاپنی کوششوں کو صرف دعوتی اور تعمیری میدان میں لگاؤ۔ اس کے بعد وہ وقت بھی آئے گا جب کہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے غلبہ اور اقتدار کی راہیں کھول دے۔ مگر یہود کی عجلت پسندی اس پر راضی نہیں ہوئی۔ انھوں نے چاہا کہ ’’تاریکی‘‘ کے مرحلہ سے گزرے بغیر وه ’’روشنی‘‘ کے مرحلہ میں داخل ہوجائیں۔ انھوںنے فوراً شاہ بابل کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کردی۔ چوں کہ خداکے نظام میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا، ان کے حصہ میں ذلّت اور رسوائی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔