Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-Jinn 72:28

72:28
ليعلم ان قد ابلغوا رسالات ربهم واحاط بما لديهم واحصى كل شيء عددا ٢٨
لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا۟ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَىْءٍ عَدَدًۢا ٢٨
لِّيَعۡلَمَ
أَن
قَدۡ
أَبۡلَغُواْ
رِسَٰلَٰتِ
رَبِّهِمۡ
وَأَحَاطَ
بِمَا
لَدَيۡهِمۡ
وَأَحۡصَىٰ
كُلَّ
شَيۡءٍ
عَدَدَۢا
٢٨
per sapere se [i profeti] hanno trasmesso i messaggi del loro Signore. Gli è ben noto tutto ciò che li concerne e tiene il conto di tutte le cose». 1 Gli esegeti propongono diverse versioni a proposito della rivelazione di questa sura. La più accreditata riferisce che di ritorno da Tà’if (vedi nota al titolo della sura xvii) l’Inviato di Allah (pace e benedizioni su di lui) recitò nella notte qualche parte del Santo Corano. La sua recitazione fu udita da un gruppo di dèmoni che toccati dall’intrinseca potenza di quelle parole, lo riconobbero come profeta e si convertirono all’IsIàm. Creature invisibili, i dèmoni vennero creati a partire dal fuoco e più esattamente dalla parte più pura di esso, la linguetta di energia che non emette fumo e che si trova sull’estremità della fiamma. Allah (gloria a Lui l’Altissimo) nel Corano li nomina ben trentuno volte. I dèmoni hanno volontà propria e libero arbitrio e vivono in un mondo contiguo ma separato da quello degli uomini, al quale hanno accesso attraverso meccanismi e varchi preclusi ai figli di Adamo. 2 «una Lettura»: lett. «un Corano». 3 «Uno stolto dei nostri»: Iblìs-Satana. 4 Riferisce Tabarì (xxix,08-che il versetto si riferisce alla superstizione degli arabi preislamici i quali pronunciavano una formula di richiesta di protezione attribuendo ai dèmoni uno speciale potere su particolari luoghi. 5 Tabarì predilige un’altra interpretazione del verbo «ba‘atha» che condurrebbe a questa traduzione: «…che Allah non avrebbe inviato alcunché». 6 Vedi nota a xxvi, 6-7 Secondo la tradizione, i dèmoni un tempo potevano ascendere al cielo; questa possibilità fu loro preclusa alla nascita di Muhammad (pace e benedizioni su di lui). 8 Anche prima di aver ricevuto la rivelazione coranica, i dèmoni erano ben consci della potenza divina e della loro condizione di creature sottoposte comunque alla Sua volontà. 9 «musulmani»: cioè sottomessi alla volontà di Allah (gloria a Lui l’Altissimo). 10 L’acqua rappresenta sempre l’abbondanza alimentare e in generale il benessere; la Retta via è l’IsIàm e in questo percorso spirituale le creature saranno tentate e messe alla prova. 11 Secondo una tradizione, i dèmoni si recarono presso l’Inviato di Allah (pace e benedizioni su di lui) e gli dissero: «Come possiamo accedere alla tua moschea e prendere parte all’orazione dietro di te quando ci troviamo in un luogo remoto?». In conseguenza a ciò fu rivelato questo versetto il cui senso ha la sua chiave di lettura nel significato letterale del «masàgid»: luogo in cui si pratica il «sujùd», la prosternazione. Allah (gloria a Lui l’Altissimo) rispose ai dèmoni che ogni luogo in cui veniva assolto il culto all’Unico era da considerarsi moschea. 12 I dèmoni che si affollavano attorno all’Inviato di Allah per ascoltarlo come affermano alcuni esegeti o i pagani di Taif che gli furono materialmente ostili o ancora, e più in generale, uomini e jinn ostili e miscredenti che cercavano di impedirgli di assolvere alla sua missione? Allah ne sa di più.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 72:27 a 72:28

الا من ................ رصدا (72) لیعلم ................ شیء عددا (27 : 82) ” سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو ، تو اس کے ٓگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیئے ، اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ پس وہ رسول جن کو وہ اپنی دعوت کے پہنچانے کے لئے چن لیتا ہے ان کو اللہ اپنے عالم غیب میں سے کچھ پہلو بتا دیتا ہے اور وہ پہلو وہی ہے جو وحی پر مشتمل ہے۔ یعنی وحی کے موضوعات ، اس کا طریقہ یعنی وہ فرشتے ، جو وحی اٹھا کر لاتے ہیں اور وہ سرچشمہ جس سے وہ لاتے ہیں یعنی لوح محفوظ اور اس کا نظام حفاظت جس کا ذکر ہو اور وہ دوسرے امور جن کا تعلق رسول کی رسالت اور دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ تمام امور غیبی امور ہیں اور انسانوں میں سے کوئی ان کے بارے میں نہیں جانتا۔ (لہٰذا رسول کو جو غیب دیا جاتا ہے وہ وحی الٰہی سے متعلق ہوتا ہے)

اور اس کے ساتھ ساتھ رسولوں کے ارد گرد اللہ کے نگراں مقرر کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ نگران ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور ان کے کام کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ یہ نگران ان کو شیطان کے وسوسوں سے بھی بچاتے ہیں ، شیطانوں کی مداخلتوں سے بھی بچاتے ہیں ، اور شیطان کی خواہشات اور تمناﺅں سے بھی بچاتے ہیں۔ یہ ان کو ان بشری کمزوریوں سے بھی بچاتے ہیں کہ وہ رسالت و دعوت میں کوئی سستی نہ کریں ، کسی بات کو بھلا نہ دیں ، راست سے منحرف نہ ہوجائیں اور ان کو دوسرے بشری نقائص اور ناتوانیوں سے بچاتے ہیں۔

لیکن انبیاء کے اس حفاظتی نظام میں ایک قسم کا خوف اور حساسیت پائی جاتی ہے۔ ذرا انداز بیان پر غور کریں۔

فانہ یسلک ................ رصد (27 : 72) ” تو اس کے آگے اور پیچھے دو محافظ لگا دیتا ہے “۔ تو ہر رسول کی مسلسل نگرانی ہوا کرتی ہے کہ آیا وہ اپنا فریضہ ادا کررہا ہے یا نہیں۔

لیعلم ................ ربھم (27 : 82) ” تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچادیئے “۔ اللہ تو پہلے سے جانتا ہے لیکن اللہ چاہتا ہے کہ ان سے عمل تبلیغ عملاً صادر ہوجائے اور وہ نظر آجائے اور اللہ کا علم اس سے متعلق ہو۔

واحاط بما لدیھم (27 : 82) ” اور وہ ان کے پورے ماحول کو احاطہ کیے ہوئے ہے “۔ ان کے نفوس ، ان کی زندگی جو کچھ بھی ہے اور ان کے ماحول میں جو کچھ بھی ہے اسے اللہ جانتا ہے۔ اللہ کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ہوتی۔

واحصی کل شیء عدادا (27 : 82) ” اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ نہ صرف یہ کہ جو رسولوں سے متعلق ہے ، بلکہ اس کا احاطہ اور اس کا شمار ہر چیز کو شامل ہے۔ ذرے ذرے کو بھی شامل ہے۔

ذرا اس حالت کا تصور کیجئے !

ایک رسول تبلیغ کررہا ہے اور اس کے آگے پیچھے نگراں لگے ہوئے ہیں۔ یہ محافظ بھی ہیں اور رقیب بھی ہیں اور اللہ رسولوں کے پورے ماحول سے براہ راست رابطہ رکھتا ہے۔ لہٰذا رسول کا فریضہ اور آپ کی سروس ایک لازمی فوجی سروس ہے۔ اور آپ کو یہ فریضہ ادا کرنا ہے۔ رسول اپنا کام کررہا ہے۔ خود مختار نہیں ہے ، نہ وہ کمزوری دکھا سکتا ہے ، نہ اپنی خواہش کی پیروی کرسکتا ہے۔ نہ اپنی پسند کے پیچھے جاسکتا ہے بلکہ ایک نہایت ہی حساس ، سنجیدہ اور سخت ڈیوٹی ہے جس کی نگرانی ہورہی ہے۔ ہر رسول اس بات کو جانتا ہے اور اس طرح اپنا فریضہ ادا کرتا چلا جاتا ہے۔ اور ادھر ادھر دیکھتا بھی نہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی سخت نگرانی ہورہی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا ہر فعل اللہ کے علم میں ہے اور برملا ہے۔

یہ ایک ایسا منظر ہے جس کو دیکھ کر ہر شخص کے دل میں رسول سے نہایت گہری ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے اور ہمدردی کے ساتھ ایک خوف اور دہشت بھی اس کے دامن گیر ہوجاتی ہے کہ دعوت دین کا معاملہ کس قدر حساس ہے۔

اس خوفناک اور مرعوب کن ہدایت پر یہ سورت ختم ہوجاتی ہے ، جس کا آغاز بھی اسی قسم کے ماحول سے ہوا تھا ، جسے جنوں کے طویل اقتباس سے شروع کیا گیا تھا اور جس میں جنوں کے کپکپادینے والے واقعات بیان ہوئے تھے۔

یہ سورت جس کی کل آیا 12 سے زیادہ نہیں ہیں ، اسلامی نظریہ حیات سے متعلق بیشمار حقائق کو طے کرتی ہے اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد کا ایک نہایت ہی متوازن اور سیدھا راستہ تجویز کرتی ہے جس کے اندر کوئی غلو نہیں ہے اور نہ افراط وتفریط ہے۔ یہ سورت عالم کے بارے میں بھی نہایت معتدل لائن دیتی ہے۔ انسانوں کے سامنے عالم غیب کے دروازے بھی بند نہیں کرتی اور نہ انسانوں کو عالم غیب کے بارے میں افسانے اور خرافات گھڑنے کی اجازت دیتی ہے۔ اور جنوں کا یہ تبصرہ اس سورت میں نہایت ہی قیمتی ہے۔

انا سمعنا ........ عجبا (27 : 1) یھدی الی ................ بہ (27 : 2) ” ہم نے قرآن سنا جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے “۔