Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Ghafir 40:37

40:37
اسباب السماوات فاطلع الى الاه موسى واني لاظنه كاذبا وكذالك زين لفرعون سوء عمله وصد عن السبيل وما كيد فرعون الا في تباب ٣٧
أَسْبَـٰبَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰٓ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّى لَأَظُنُّهُۥ كَـٰذِبًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَصُدَّ عَنِ ٱلسَّبِيلِ ۚ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِى تَبَابٍۢ ٣٧
أَسۡبَٰبَ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
فَأَطَّلِعَ
إِلَىٰٓ
إِلَٰهِ
مُوسَىٰ
وَإِنِّي
لَأَظُنُّهُۥ
كَٰذِبٗاۚ
وَكَذَٰلِكَ
زُيِّنَ
لِفِرۡعَوۡنَ
سُوٓءُ
عَمَلِهِۦ
وَصُدَّ
عَنِ
ٱلسَّبِيلِۚ
وَمَا
كَيۡدُ
فِرۡعَوۡنَ
إِلَّا
فِي
تَبَابٖ
٣٧
le vie dei cieli, e ascenderò al Dio di Mosè, nonostante lo 1 ritenga un bugiardo». Così la peggior azione di Faraone fu resa bella ai suoi occhi. Fu sviato dalla [retta] via. L’astuzia di Faraone non fu destinata che al fallimento.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 40:36 a 40:37

آیت نمبر 36 تا 37

فرعون نے ہامان سے کہا میرے لیے ایک بلند عمارت بناتک کہ میں آسمان کے راستوں تک پہنچ سکوں اور موسیٰ کے حدا کے بارے میں جان سکوں۔

وانی لاظنه جاذبا (40: 37) ” مجھے تو یہ موسیٰ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے “۔ یہ سرکش فرعون کی چالاکی اور اٹکل بازی ہے ، وہ سچائی کے مقابلے میں علانیہ آنا نہیں چاہتا اور عقیدۂ توحید کا اعتراف بھی نہیں کرتا کیونکہ اس صورت میں اس کی حکومت جاتی ہے ، جن افسانوں پر اس کی مملک قائم تھی وہ عقیدۂ توحید کے بعد باطل قرار پاتے تھے۔ یہ بات بعید ازامکان ہے کہ فرعون اس قدر کم عقل تھا اور وہ اس علمی سطح کا آدمی تھا۔ اور وہ الہہ موسیٰ کو اس سادہ انداز سے دھوکہ دے رہا تھا کیونکہ فراعنہ مصر علمی لحاظ سے بہت ہی ترقی یافتہ تھے۔ یہ دراصل اس کی طرف سے حضرت موسیٰ اور الہٰ العالمین کے ساتھ مذاق تھا۔ البتہ اس مذاق کے ساتھ وہ اپنے رویہ کو بظاہر منصفانہ بنانا چاہتا تھا۔ اور رجل مومن نے جو زبردست منطقی تقریر کی تھی اس سے جان چھڑانے کا یہ بھونڈا طریقہ اور تدبیر تھی لیکن یہ سب باتیں یہ ضرور ظاہر کردیتی ہیں کہ فرعون مصر کو اپنی گمراہی پر اصرار تھا اور وہ کبر میں مبتلا تھا۔ اور حضرت موسیٰ کو رع کرنے پر تلا ہو تھا۔

وکذٰلک۔۔۔ عن السبیل (40: 37) ” اس طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنادی گئی اور وہ راہ راست سے روک دیا گیا “۔ اور اب وہ اس بات کا مستحق قرار پا گیا کہ اسے راستے سے روک دیاجائے کیونکہ وہ جس رویے کا اظہار کررہا تھا ، وہ صراط مستقیم سے دور انحراف کا رویہ تھا۔ نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ وہ بربادی اور ناکامی کی طرف بڑھ رہا ہے ،

وماکیدفرعون الافی تباب (40: 37) ” اور فرعون کی ساری چالبازی تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی۔

اسی مذاق اور فریب اور گمراہی پر یہ اصرار کو دیکھکر رجل مومن نے بھی مناسب سمجھا کہ ایک آخری بات ان سے کہہ دے۔ یہ بہت ہی بلند واضح بات ہے۔ اس سے پہلے تو لوگوں کو یہ دعوت دی کہ میرا اتباع کرو ، میں تمہیں سیدھی راہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ پھر اس نے لوگوں کو بتایا کہ یہ زندگی تو بہت ہی مختصر اور فانی زندگی ہے۔ اسلیے تم اس زندگی کا انتظام کرو جو باقی رہنے والی ہے اور آخرت کے دائمی عذاب سے بچو اور اسنے واضح طور پر بتایا کہ شرک کے عقیدے میں کیا کیا کمزوریاں ہیں :