Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Az-Zalzalah 99:8

99:8
ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره ٨
وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ شَرًّۭا يَرَهُۥ ٨
وَمَن
يَعۡمَلۡ
مِثۡقَالَ
ذَرَّةٖ
شَرّٗا
يَرَهُۥ
٨
e chi avrà fatto [anche solo] il peso di un atomo di male lo vedrà 1 . 2 Il terremoto (quello generale e finale) uno dei segni dell’Ora. 3 Le spoglie degli uomini che sono sepolti in essa. 4 Come tutto il resto della creazione, anche la terra testimonierà delle azioni degli uomini. 5 «usciranno in gruppi»: dalle loro tombe. 6 «affinché siano mostrate…»: affinché gli uomini si possano rendere conto della reale portata delle loro azioni. Disse l’Inviato di Allah (pace e benedizioni su di lui): «In verità l’uomo dorme, è quando muore che si sveglia». 7 Il Profeta Muhammad (pace e benedizioni su di lui) disse che i due versetti che concludono questa sura sono i più terrificanti di tutto il Corano.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith

فمن یعمل ................................ یرہ (8:99) ” پھر جس نے ذرا برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھے گا “۔ پرانے مفسرین ذرے کی تفسیر مچھر کے برابر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے ذرہ وہ اڑنے والا چھوٹا ایٹم ہے جو سورج کی روشنی میں نظر آیا کرتا ہے۔ دراصل اس دور میں یہ وہ چھوٹی سے چھوٹی مقدار تھی جس کا وہ لوگ تصور کرسکتے تھے لیکن آج کے جدید زمانے میں ہم جانتے ہیں کہ ذرہ کیا ہے۔ وہ ایک متعین جسم ہے اور یہ یہ ذرہ سے بہت چھوٹا ہے جو فضا میں اڑرہا ہوتا ہے اور جو سورج کی روشنی میں نظر آتا ہے اس لئے کہ ہوا میں اڑنے والی یہ چھوٹی سی مقدار محض آنکھ سے دیکھی جاسکتی ہے۔ رہے ایٹم تو وہ صرف خوردبین کے ساتھ لیبارٹری میں دیکھا جاسکتا ہے۔ سائنس دان اس ذرے کو دراصل اپنے ذہن اور عقل سے دیکھتے ہیں اور اس کے آثار کو آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ پس قیامت کے دن اس ذرے یعنی ایٹم جتنی بھلائی یا برائی کی کوئی بھی جزاء وسزا ہوگی۔ یہ چھوٹی سی نیکی اور بدی بھی اس کے کرنے والے کے سامنے پیش ہوگی ، اور وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔

یہاں آکر ہر انسان چوکنا ہوجاتا ہے اور وہ اپنے خیروشر سے غافل نہیں رہتا ، اور یہ نہیں کہتا کہ یہ تو چھوٹا سا عمل نیک ہے یا یہ تو چھوٹی سی برائی ہے اور اس کا کوئی حساب و کتاب نہ ہوگا۔ اس نہایت ہی باریک اور لطیف ترازو کے سامنے ہر شخص کانپ اٹھتا ہے کہ جہاں ذرے کو بھی تولا اور ناپا جائے گا۔

اس جہاں میں تو ایسی کوئی میزان نہیں ہے جو اس قدر ناقابل وزن ذرے کو بھی ناپ اور تول سکے۔ البتہ قلب مومن میں جو تقویٰ کا میزان وہ ذرے کو ہی ناپتا اور تولتا ہے ۔ کیونکہ ایک مومن تو ذرے کے برابر گناہ سے بھی ڈرتا ہے۔ افسوس کہ اس جہاں میں ایسے سخت دل بھی ہیں جو پہاڑوں جیسے جرائم سے بھی نہیں ڈرتے ، بلکہ ایسے سنگدل لوگ بھی ہیں جو خیر کے ایسے ایسے پہاڑوں کو بھی مٹانے کے درپے ہیں جن کے سامنے اس زمین کے اونچے اونچے پہاڑ بھی ہیچ ہیں۔

یہ نہایت ہی سخت دل ہیں ، پتھروں جیسے سخت۔ یہ پتھروں کی طرح زمین کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں اور یہ دل جب قیامت کے دن آئیں گے تو اپنے گناہوں کے بوجھوں کے نیچے پس کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ (1)

(1) یہ پیراگراف خود سید قطب پر صادق آتا ہے جسے قی القلب ناصر نے اس جہاں سے مٹایا ، حالانکہ وہ نیکی کے ایک بلند پہاڑ تھے۔