Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-Mulk 67:30

67:30
قل ارايتم ان اصبح ماوكم غورا فمن ياتيكم بماء معين ٣٠
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًۭا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَآءٍۢ مَّعِينٍۭ ٣٠
قُلۡ
أَرَءَيۡتُمۡ
إِنۡ
أَصۡبَحَ
مَآؤُكُمۡ
غَوۡرٗا
فَمَن
يَأۡتِيكُم
بِمَآءٖ
مَّعِينِۭ
٣٠
Di’: «Cosa credete? Se la vostra acqua rientrasse nelle profondità [della terra] chi vi procurerebbe acqua sorgiva?».   1 Vedi note a XV,e XXXVII,2 «il Sottile»: in arabo «al-Latìf» con il senso di perspicace, acuto, capace di percepire anche le parti più nascoste, profondo; altro significato, il Dolce, Colui che mitiga le pene. 3 «il volto rivolto al suolo»: colui che presta attenzione solo al lato materiale della vita.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith

قل ارءیتم .................... معین

” ماﺅکم غورا (76 : 03) ” کے معنی اس پانی کے ہیں جو زمین کی رگوں میں دور تک چلاجائے اور اسے واپس لانے کی کوئی سبیل نہ ہو۔

معین (76 : 03) وہ چشمہ جو زمین سے ابل کر پانی لارہا ہو۔ یہ مناظر وہ دیکھتے رہتے تھے۔ اگرچہ وہ اس دن اس میں شک کرتے تھے۔ لیکن زمین و آسمان کی بادشاہت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہ جس وقت چاہے ان چشموں کو خشک کردے۔ اگر اللہ ان کی زندگی کے اس سبب کو ہی کشید کرلے تو نتائج کیا ہوں۔ اس کے بعد ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ذرا اس پر بھی غور کرلو۔

یوں اس سورت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ یہ دلائل ، تاثرات ، ملکوت سماوات اور ارض کی سیر ، ہر آیت ایسی کہ بذات خود فکر انگیز ، قلب ونظر اور فکر و خیال کی جولانی۔

یہ بہت ہی زیادہ فکر انگیز سورت ہے۔ حجم اگرچہ کم ہے لیکن تصورات ، ہدایات آفاق کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ اشاراتی تیر ہیں جو بہت ہی دور تک فکر و خیال کو لے جاتے ہیں اور کائنات کی سیر کراتے ہیں۔

یہ سورت اسلامی تصور حیات کی بنیادیں رکھ دیتی ہے۔ یہ ضمیر کے اندر بٹھاتی ہے کہ تمام فیصلے ازل میں ہوچکے ہیں۔ تمام کائنات پر اللہ کا مکمل کنٹرول ہے ، انسانوں کو یہاں آزمائش اور امتحان کے لئے بھیجا گیا جس کا نتیجہ حشر ونشر کے دن نکلے گا۔ اللہ کی مخلوقات میں کمال و جمال انتہاﺅں پر ہے۔ اللہ کا علم ظاہر و باطن پر محیط ہے ، رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ مخلوقات کا محافظ ہے ، وہ مخلوقات کے ساتھ ہے ، ایک مسلم کا تصور اب کیا ہے ، پھر اس کائنات کا اللہ کے ساتھ کیا تعلق ہے ، یہ وہ مجموعہ تصورات ہے جس کے اوپر اسلامی نظام حیات کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ مومن کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ، مومن کا تعلق اپنے نفس کے ساتھ ، مومن کا تعلق اپنے بھائیوں اور انسانوں کے ساتھ ، مومن کا تعلق تمام زندہ مخلوقات کے ساتھ ، مومن کا تعلق روئے زمین کے اشیاء کے ساتھ۔ یہ تصورات انسان کے ضمیر میں ان تعلقات کو اس تفصیلی کیفیات عطا کرتے ہیں۔ اس سے ایک مسلم کی زندگی کی اقدار اور پیمانے واضع ہوتے ہیں۔