Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Al-Ghashiyah 88:26

88:26
ثم ان علينا حسابهم ٢٦
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم ٢٦
ثُمَّ
إِنَّ
عَلَيۡنَا
حِسَابَهُم
٢٦
e allora spetterà a Noi chieder loro conto [delle loro azioni]. 1 «l’Avvolgente»:senza alcun dubbio è l’ora del Giudizio. Il termine «al-ghâshiya» che abbiamo tradotto con «avvolgente» significa coprire, avvolgere, attaccare il nemico da ogni lato. 2 «darì‘»: pianta spinosa e amarissima tipica dei deserti. 3 «Non considerano [quelli che non credono]…» 4 «infisse le montagne»: vedi nota a xvi,5 «non hai autorità alcuna su di loro» nel senso di: «non hai nessun potere per costringere chi non crede a farlo». Per quanto riguarda il concetto di autorità letteralmente inteso, si consideri che la sura è meccana (pre-Egira) e che Muhammad (pace e benedizioni su di lui) a cui si rivolge il Sacro testo, non era ancora a capo di una comunità organizzata di credenti.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 88:25 a 88:26

ان الینا ........................... حسابھم (26:88) ” ان لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے ، پھر ان کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے “۔ یوں دعوت اسلامی میں رسول ﷺ کے کردار پر بھی حدود وقیود عائد کردیئے جاتے ہیں۔ اور آپ کے بعد بھی ہر داعی پر صرف دعوت دینا فرض ہے۔ یہ کہ ہر داعی کا کام یہ ہے کہ وہ یاد دہانی کراتا رہے اور حسب لینا اللہ ذمہ داری ہے۔ اللہ سے وہ کہیں بھاگ نہیں سکتے ، نہ وہ اللہ کے محاسبے سے بچ سکتے ہیں۔ ہاں داعیان حق کی یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ انہوں نے دعوت اسلامی کے راستے میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہے تاکہ لوگوں تک دعوت آزادانہ پہنچ سکے۔ اور رکاوٹیں دور کرنے کا کام فریضہ جہاد سے پورا ہوتا ہے جس طرح قرآن اور سیرت الرسول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسلام کے نظریہ جہاد کو کسی کمی اور بیشی کے سوا سمجھنا چاہیے۔ یہ بھی نہ ہو کہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ موجود ہو ، اور جہاد نہ کیا جائے۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ تبلیغ کے راستے کھلے ہوں اور لوگوں کو تلوار کے زور سے مسلمان کیا جائے۔