Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: An-Nahl 16:118

16:118
وعلى الذين هادوا حرمنا ما قصصنا عليك من قبل وما ظلمناهم ولاكن كانوا انفسهم يظلمون ١١٨
وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَـٰهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ١١٨
وَعَلَى
ٱلَّذِينَ
هَادُواْ
حَرَّمۡنَا
مَا
قَصَصۡنَا
عَلَيۡكَ
مِن
قَبۡلُۖ
وَمَا
ظَلَمۡنَٰهُمۡ
وَلَٰكِن
كَانُوٓاْ
أَنفُسَهُمۡ
يَظۡلِمُونَ
١١٨
Proibimmo a quelli che seguirono il giudaismo ciò di cui già ti dicemmo. Non siamo stati Noi ad essere ingiusti verso di loro, essi stessi lo furono 1.
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 16:118 a 16:119

بنی اسرائیل پر یہ چیزین اس لئے حرام کی گئی تھیں کہ وہ مسلسل نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرتے تھے اور یہ ان کی جانب سے خود پنے آپ پر ظلم تھا۔ اب اگر کسی نے برے کام پر اصرار نہ کیا اور جہالت سے سچے دل سے تائب ہوگیا تو اللہ غفور الرحیم ہے۔ اس کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ آیت عام ہے یہودیوں کے لئے بھی تھی اور ان کے بعد آج مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ نیز آج یہودی اور غیر یہودی کافر اگر تائب ہوجائیں تو ان کے بھی تمام گناہ بخشے جائیں گے۔

اس مناسبت سے کہ بعض چیزیں یہودیوں پر کیوں حرام کی گئیں اور یہ کہ اہل مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور جن چیزوں کو انہوں نے اپنے الہوں کے نام پر حرام قرار دیا ہے وہ احکام ان کو دین ابراہیم سے ملے ہیں۔ یہاں روئے سخن ابراہیم (علیہ السلام) اور دین ابراہیم کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ کیا تھے اور آپ کا دین کیا تھا اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ حقیقی دین ابراہیم پر ہیں اور یہ کہ یہودیوں پر جو مخصوص چیزیں ان کے جرائم کی وجہ سے حرام ہوئیں وہ دین ابراہیم میں حرام نہ تھیں۔