Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
40:35
الذين يجادلون في ايات الله بغير سلطان اتاهم كبر مقتا عند الله وعند الذين امنوا كذالك يطبع الله على كل قلب متكبر جبار ٣٥
ٱلَّذِينَ يُجَـٰدِلُونَ فِىٓ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـٰنٍ أَتَىٰهُمْ ۖ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍۢ جَبَّارٍۢ ٣٥
ٱلَّذِينَ
يُجَٰدِلُونَ
فِيٓ
ءَايَٰتِ
ٱللَّهِ
بِغَيۡرِ
سُلۡطَٰنٍ
أَتَىٰهُمۡۖ
كَبُرَ
مَقۡتًا
عِندَ
ٱللَّهِ
وَعِندَ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْۚ
كَذَٰلِكَ
يَطۡبَعُ
ٱللَّهُ
عَلَىٰ
كُلِّ
قَلۡبِ
مُتَكَبِّرٖ
جَبَّارٖ
٣٥
"(Iaitu) orang-orang yang membantah mengenai maksud ayat-ayat Allah dengan tidak ada sebarang bukti yang sampai kepada mereka (dari pihak yang diakui benarnya). (Bantahan yang demikian) besar kebenciannya dan kemurkaannya di sisi hukum Allah dan di sisi bawaan orang-orang yang beriman. Demikianlah Allah meteraikan atas hati tiap-tiap orang yang sombong takbur, lagi bermaharajalela pencerobohannya!"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 40:34 hingga 40:35

حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں مصر کے لوگوں کی اکثریت آپ کی نبوت کی قائل نهيں ہوئی۔ مگر آپ کی وفات کے بعد جب ملکی سلطنت کا نظام بگڑنے لگا تو مصریوں کو آپ کی عظمت کا احساس ہوا۔ اب وہ کہنے لگے کہ یوسف کا وجود مصر کےلیے بہت بابرکت تھا۔ ایسا رسول اب کہاں آئے گا۔ حضرت یوسف اگرچہ خدا کے پیغمبر تھے مگر اسی کے ساتھ وہ ایک انسان بھی تھے۔ اس بنا پر لوگوںکےلیے یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ — ’’کیا ضروری ہے کہ یوسف کے کمالات پیغمبري کی بنا پر ہوں، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ ایک ذہین انسان ہوں اور ا س بنا پر انھوں نے کمالات ظاہر کيے ہوں‘‘۔ اسی طرح کی باتیں تھیں جن کو لے کر مصر کے لوگ آپ کے بارے میں شک میں مبتلا ہوگئے۔

حق خواہ کتنا ہی واضح ہو، موجودہ امتحان کی دنیا میں ہمیشہ اس کا امکان باقی رہتا ہے کہ آدمی کوئی شبہ کا پہلو نکال کر اس کا منکر بن جائے۔ اب جو لوگ اپنے اندر سرکشی اور گھمنڈ کا مزاج ليے ہوئے ہوں ۔ جو یہ سمجھتے ہوں کہ حق کو مان کر وہ اپنی بڑائی کھو دیں گے۔ وہ عین اپنے مزاج کے تحت انھیں شبہات میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ وہ ان شبہات کو اتنا بڑھاتے ہیں کہ وہی ان کے دل ودماغ پر چھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ حق کے معاملہ میں سیدھے اندازسے سوچ نہیں پاتے۔ وہ ہمیشہ اس کے منکر بنے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔