Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Ahzaab 33:15

33:15
ولقد كانوا عاهدوا الله من قبل لا يولون الادبار وكان عهد الله مسيولا ١٥
وَلَقَدْ كَانُوا۟ عَـٰهَدُوا۟ ٱللَّهَ مِن قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ ٱلْأَدْبَـٰرَ ۚ وَكَانَ عَهْدُ ٱللَّهِ مَسْـُٔولًۭا ١٥
وَلَقَدۡ
كَانُواْ
عَٰهَدُواْ
ٱللَّهَ
مِن
قَبۡلُ
لَا
يُوَلُّونَ
ٱلۡأَدۡبَٰرَۚ
وَكَانَ
عَهۡدُ
ٱللَّهِ
مَسۡـُٔولٗا
١٥
Pada hal sesungguhnya mereka telahpun mengikat janji dengan Allah sebelum itu, iaitu mereka tidak akan berpaling undur (dari medan perang yang mereka hadiri). Dan (ingatlah) janji setia dengan Allah itu akan ditanya kelak (tentang penyempurnaannya).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

ولقد کانوا عاھدوا ۔۔۔۔۔۔ عھد اللہ مسئولا (15)

ابن ہشام نے ابن اسحاق کی روایت اپنی سیرۃ میں نقل کی ہے کہ یہ لوگ بنو حارثہ تھے۔ یہی لوگ تھے جو احد کے دن بھی بھاگنا چاہتے تھے اور بنو مسلمہ اور ان دونوں نے واپسی کا فیصلہ کرلیا تھا ۔ لیکن بعد میں انہوں نے اللہ کے ساتھ عہد کرلیا تھا کہ وہ ایسا ہرگز نہ کریں گے۔ یہاں یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ تم نے خود یہ عہد اللہ کے ساتھ کیا تھا کہ آئندہ ایسا نہ کریں گے۔

احد کے دن تو اللہ کے فضل و کرم سے وہ بچ گئے تھے۔ اللہ نے ان کو ثابت قدمی دے دی تھی۔ اور ان کو فرار کے نتائج سے بچا لیا تھا۔ ابتدائی زمانے میں جہاد کے اسباق میں سے یہ ایک سبق تھا لیکن آج تو تحریک اسلامی پر طویل دورگزر گیا ہے۔ کافی تجربات ہوگئے ہیں۔ اس لیے قرآن کریم ان پر سخت تبصرہ کرتا ہے۔

آج جب انہوں نے عہد توڑ دیا۔ آج وہ خطرے سے بچنے کیلئے اور خوف کی حالت سے بھاگنے کے لیے عہد توڑ چکے ، تو قرآن کریم ان کو بتاتا ہے اور ہر وقت بتاتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں اعلیٰ قدر کیا ہے اور اسلامی تصور حیات میں موت اور زیست کا تصور کیا ہے۔ کیا فرار اور نقص عہد زندگی کا ضمان ہے ؟