Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-An'aam 6:109

6:109
واقسموا بالله جهد ايمانهم لين جاءتهم اية ليومنن بها قل انما الايات عند الله وما يشعركم انها اذا جاءت لا يومنون ١٠٩
وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـٰنِهِمْ لَئِن جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌۭ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا ٱلْـَٔايَـٰتُ عِندَ ٱللَّهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَآ إِذَا جَآءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ ١٠٩
وَأَقۡسَمُواْ
بِٱللَّهِ
جَهۡدَ
أَيۡمَٰنِهِمۡ
لَئِن
جَآءَتۡهُمۡ
ءَايَةٞ
لَّيُؤۡمِنُنَّ
بِهَاۚ
قُلۡ
إِنَّمَا
ٱلۡأٓيَٰتُ
عِندَ
ٱللَّهِۖ
وَمَا
يُشۡعِرُكُمۡ
أَنَّهَآ
إِذَا
جَآءَتۡ
لَا
يُؤۡمِنُونَ
١٠٩
Dan mereka pula bersumpah dengan nama Allah, dengan menegaskan sumpah mereka bersungguh-sungguh, bahawa sesungguhnya jika datang kepada mereka sesuatu mukjizat (sebagaimana yang mereka minta itu), tentulah mereka akan beriman kepadanya. Katakanlah (wahai Muhammad): "Bahawa soal mendatangkan mukjizat-mukjizat itu hanyalah Allah yang menentukannya, dan kamu tidak menyedari (wahai orang-orang Islam), bahawa apabila mukjizat-mukjizat (yang mereka minta) itu datang, mereka juga tidak akan beriman.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 6:109 hingga 6:110

(آیت) ” نمبر 109 تا 110۔

” وہ دل جو اس کائنات میں بکھرے ہوئے شواہد و دلائل کو تسلیم نہیں کرتا ‘ خصوصا اس تبلیغ وبیان کے بعد جو اس کتاب نے بےمثال پیرائے میں پیش کیا اور اس کائنات اور خود انسان کے نفس کے اندر موجود آیات الہیہ اسے اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں اور وہ اپنے رب کی طرف دوڑ کر نہیں آتا تو ایسا دل یقینا لاعلاج دل ہے ۔ ان لوگوں نے ابتداء ہی سے ایمان کا انکار کردیا ہے تو جو مسلمان حضرت نبی کریم ﷺ سے درخواستیں کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ایسے معجزات کے صدور کی دعا کریں تو ان کے پاس کی گارنٹی ہے کہ وہ صدور معجزہ کے بعد دوبارہ انکار نہ کریں گے ۔ اللہ ہی ان کے دلوں کا حال جانتا ہے اور خوب جانتا ہے ۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ یہ لوگ یونہی اپنی سرکش میں غرق رہیں کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ ان کی تکذیب کا صلہ یہی ہے اور اللہ کو یہ بھی علم ہے کہ صدور معجزہ کے بعد بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔ اگر فرشتے بھی اتر آئیں تب بھی وہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ اگر مردے اٹھ کر قبروں سے بات چیت شروع کردیں تب بھی نہیں مانیں گے ۔ اگر تمام مخلوق کو اٹھا کر ان کے سامنے حشر برپا کر دیاجائے اور یہ تمام مخلوق ان کو دعوت ایمان دے تب بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ یہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کی مشیت انہیں مجبور ایمان نہ کر دے ۔ اور اللہ کی مشیت کسی کو مجبور نہیں کرتی کیونکہ لوگ اس طرف آنا ہی نہیں چاہتے ۔ یہ وہ نفسیاتی حقیقت ہے جسے اکثر داعی بھول جاتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ اہل ضلال کے سامنے دلائل وبراہین کی کوئی کمی ہے ‘ بلکہ وہ دل کے بیمار ہیں ۔ ان کی فطرت معطل ہوچکی ہے اور ان کا ضمیر فاسد ہوچکا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے حصول کے لئے سعی کریں ۔ بٹگرام 12 دسمبر 1990۔ 49 : 12 بجے دن ۔