Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-An'aam 6:156

6:156
ان تقولوا انما انزل الكتاب على طايفتين من قبلنا وان كنا عن دراستهم لغافلين ١٥٦
أَن تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أُنزِلَ ٱلْكِتَـٰبُ عَلَىٰ طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَـٰفِلِينَ ١٥٦
أَن
تَقُولُوٓاْ
إِنَّمَآ
أُنزِلَ
ٱلۡكِتَٰبُ
عَلَىٰ
طَآئِفَتَيۡنِ
مِن
قَبۡلِنَا
وَإِن
كُنَّا
عَن
دِرَاسَتِهِمۡ
لَغَٰفِلِينَ
١٥٦
Supaya kamu tidak mengatakan: "Bahawa Kitab (ugama) itu hanya diturunkan kepada dua golongan (Yahudi dan Nasrani) dahulu sebelum kami, dan sesungguhnya kami lalai (tidak faham) akan apa yang dibaca dan dipelajari oleh mereka".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 6:154 hingga 6:158

خدا کی طرف سے جو کتاب آتی ہے اس میں اگرچہ بہت سی تفصیلات ہوتی ہیں مگر بالآخر اس کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے۔ یہ کہ آدمی اپنے رب کی ملاقات پر یقین کرے۔ یعنی دنیا میں وہ اس طرح زندگی گزارے کہ وہ اپنے ہر عمل کے ليے اپنے آپ کو خدا کے یہاں جواب دہ سمجھتا ہو۔ اس کی زندگی ایک ذمہ دارانہ زندگی ہو، نہ کہ آزاد اور بے قید زندگی۔ یہی پچھلی کتابوں کا مقصد تھا اور یہی قرآن کا مدعا بھی ہے۔

خدا نے بقیہ دنیا کو براہِ راست اپنے جبری حکم کے تحت اپنا پابند بنا رکھا ہے۔ مگر انسان کو اس نے پورا اختیار دے دیا ہے۔ اس نے انسان کی ہدایت کا یہ طریقہ رکھا ہے کہ رسول اور کتاب کے ذریعہ دلائل کی زبان ميں وہ لوگوں کو حق اور باطل سے باخبر کرتا ہے۔ دنیا میں خدا کی مرضی لوگوں کے سامنے دلیل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں دلیل کو ماننا خدا کو ماننا ہے اور دلیل کو جھٹلانا خدا کو جھٹلانا۔

قیامت کا دھماکہ ہونے کے بعد تمام چھپی ہوئی حقیقتیں لوگوں کے سامنے آجائیں گی۔ اس وقت ہر آدمی خدا اور اس کی باتوں کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر اس وقت کے ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔ ماننا وہی ماننا ہے جو حالتِ غیب میں ماننا ہو۔ ایمان دراصل یہ ہے کہ دیکھنے کے بعد آدمی جو کچھ ماننے پر مجبور ہوگا اس کو وہ دیکھے بغیر مان لے۔ جو شخص دیکھ کر مانے اس نے گویا مانا ہی نہیں۔

جو لوگ آج اختیار کی حالت میں اپنے کو خدا کا پابند بنالیں ان کے لیے خدا کے یہاں جنت ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ قیامت کے آنے کے بعد خدا کے آگے جھکیں گے ان کا جھکنا صرف ان کے جرم کو مزید ثابت کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اُس کا مطلب یہ ہوگا کہ انھوں نے خود اپنے اعتراف کے مطابق، ایک ماننے والی بات کو نہ مانا، انھوں نے ايك كيے جانے والے کام کو نہ کیا۔