Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Anbiyaa' 21:37

21:37
خلق الانسان من عجل ساريكم اياتي فلا تستعجلون ٣٧
خُلِقَ ٱلْإِنسَـٰنُ مِنْ عَجَلٍۢ ۚ سَأُو۟رِيكُمْ ءَايَـٰتِى فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ ٣٧
خُلِقَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
مِنۡ
عَجَلٖۚ
سَأُوْرِيكُمۡ
ءَايَٰتِي
فَلَا
تَسۡتَعۡجِلُونِ
٣٧
Jenis manusia dijadikan bertabiat terburu-buru dalam segala halya; Aku (Allah) akan perlihatkan kepada kamu tanda-tanda kekuasaanKu; maka janganlah kamu meminta disegerakan (kedatangannya).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 21:37 hingga 21:38

خلق الانسان۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین ”

انسان پیدا ہی جلد بازی سے کیا گیا ہے۔ عجلت اس کے مزاج اور اس کی تخلیق میں رکھی گئی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی نظریں اس پر لگائے رکھتا ہے کہ مستقبل کے پردے کے پیچھے سے کیا نمودار ہوتا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ مستقبل کے راز بھی یہ ہاتھ میں لے لے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے تمام تاثرات حقیقت کا روپ اختیارکر لیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ جو وعدے ہوتے ہیں وہ اس کے سامنے آجائیں اگرچہ انمیں اس کو تکلیف ہی ملے۔ یہ صورت حال تب بدلتی ہے جب انسان کا رابطہ اللہ کے ساتھ قائم ہوجائے۔ اس صورت میں اس کی زندگی میں ٹھہرائو آجاتا ہے۔ وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور اپنے معاملات اللہ کے سپرد کردیتا ہے ‘ پھر جلد بازی نہیں کرتا۔ ایمان نام ہی یقین ‘ صبر اور اطمینان کا ہے۔

یہ مشرکین جو عذاب کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتی ہیں کہ جلدی کیوں نہیں آتا ‘ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی یعنی عذاب آخرت کب ہوگا اور عذاب دنیا کب آئے گا جس سے تم ڈراتے ہو۔ اس موقع پر صرف عذاب آخرت کا ایک منظر ان کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے اور ڈرایا جاتا ہے کہ تم سے قبل بھی کئی لوگوں نے اس قسم کا مذاق کیا تھا ‘ لیکن جب عذاب آیا تو وہ سامان عبرت بن گئے۔