Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Anfaal 8:37

8:37
ليميز الله الخبيث من الطيب ويجعل الخبيث بعضه على بعض فيركمه جميعا فيجعله في جهنم اولايك هم الخاسرون ٣٧
لِيَمِيزَ ٱللَّهُ ٱلْخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ ٱلْخَبِيثَ بَعْضَهُۥ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فَيَرْكُمَهُۥ جَمِيعًۭا فَيَجْعَلَهُۥ فِى جَهَنَّمَ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ ٣٧
لِيَمِيزَ
ٱللَّهُ
ٱلۡخَبِيثَ
مِنَ
ٱلطَّيِّبِ
وَيَجۡعَلَ
ٱلۡخَبِيثَ
بَعۡضَهُۥ
عَلَىٰ
بَعۡضٖ
فَيَرۡكُمَهُۥ
جَمِيعٗا
فَيَجۡعَلَهُۥ
فِي
جَهَنَّمَۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلۡخَٰسِرُونَ
٣٧
Kerana Allah hendak membezakan yang jahat (golongan yang ingkar) dari yang baik (golongan yang beriman), dan menjadikan (golongan) yang jahat itu setengahnya bersatu dengan setengahnya yang lain, lalu ditimbunkannya kesemuanya, serta dimasukkannya ke dalam neraka Jahanam. Mereka itulah orang-orang yang rugi.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

یہ عمل کس طرح جاری ہوگا ، یہ مال جو خرچ کیا جا رہا ہے یہ باطل کی قوتوں کو مجتمع کرتا ہے اور ان کو حق پر دست درازی کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ اور حق اس کا مقابلہ کرتا ہے اور سعی و جہد کا میدان گرم ہوتا ہے۔ حق ایک تحریک کی شکل میں آگے بڑھتا ہے اور باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اس کشمکش اور کڑوے عمل میں ہی حق و باطل کا امتیاز ہوجاتا ہے۔ اہل حق اور اہل باطل متمیز ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اسلامی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں ، ان کے درمیان سے بھی کمزور لوگ چھٹ جاتے ہیں اور وہی لوگ رہ جاتے ہیں جو ثابت قدم ، صابر اور بہادر اور اللہ کی نصرت کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے ہی لوگ اس عظیم امانت کے اٹھانے کے قابل ہوتے ہیں۔ وہ کسی فتنے اور کسی بھی مشکل کی وجہ سے اپنے موقف سے نہیں ہٹتے۔ اسی عمل سے خباثت کے پلندوں کو جمع کرکے جہنم رسید کیا جاسکتا ہے اور یہی صورت اہل باطن کے خسران کا سبب بنتی ہے۔

قرآن کریم نے یہاں خباثت کو مجسم شکل میں پیش کیا ہے گویا اس کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور اسے جہنم میں لے جا کر ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا اس کے ختم کرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔

فَيَرْكُمَهٗ جَمِيْعًا فَيَجْعَلَهٗ فِيْ جَهَنَّمَ ۔ اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے۔ پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے۔ کسی مفہوم کو اس طرح مجسم شکل میں پیش کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ و احساس و شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا ایک منفرد اسلوب ہے۔