Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Anfaal 8:56

8:56
الذين عاهدت منهم ثم ينقضون عهدهم في كل مرة وهم لا يتقون ٥٦
ٱلَّذِينَ عَـٰهَدتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِى كُلِّ مَرَّةٍۢ وَهُمْ لَا يَتَّقُونَ ٥٦
ٱلَّذِينَ
عَٰهَدتَّ
مِنۡهُمۡ
ثُمَّ
يَنقُضُونَ
عَهۡدَهُمۡ
فِي
كُلِّ
مَرَّةٖ
وَهُمۡ
لَا
يَتَّقُونَ
٥٦
(Iaitu) orang-orang yang engkau telah mengikat perjanjian setia dengan mereka, kemudian mereka mencabuli perjanjian setianya pada tiap-tiap kali, sedang mereka tidak mahu memelihara dirinya (dari keaiban mencabuli perjanjian itu).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

ان لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ یہ جو عہد بھی کرتے ہیں اسے توڑتے ہیں۔ تو اس طرح وہ انسانیت کے ایک اہم خاصہ یعنی وفائے عہد سے پاک ہوگئے ہیں ، یہ ہر قید و بند سے اس طرح آزاد ہوگئے ہیں جس طرح بہائم آزاد ہوتے ہیں ، اگرچہ بہائم تو اپنے فطری ضابطے کے اندر جکڑے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کے لیے چونکہ کوئی جبری فطری ضابطہ نہیں اس لیے وہ اللہ کے نزدیک بہائم سے بھی بد تر مخلوق تصور ہوتے ہیں۔

ایسے لوگ کہ جن کے عہد و پیمان پر کوئی مطمئن نہ ہو اور ان کی ہمسائیگی محفوظ نہ ہو۔ ان کے لیے یہی موزوں جزاء و سزا ہے کہ ان کو امن و اطمینان سے محروم کردیا جائے۔ جس طرح خود انہوں نے دوسرے لوگوں کو امن سے محروم کردیا ہے۔ ان کی سزا یہ ہے کہ ان کو خوفزدہ کردیا جائے ، علاقے سے نکال دیا جائے اور ان کے ہاتھ توڑ کر رکھ دیے جائیں۔ ان پر ایسی ضرب لگائی جائے کہ نہ صرف و خوفزدہ ہوجائیں بلکہ ان کے پیچے رہنے والے تمام لوگوں کے لیے یہ ضرب عبرت بن جائے۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ حکم ہے۔ اسی طرح آپ کے بعد کے آنے والوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ اگر ان کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے تو یہی رویہ اختیار کریں۔