Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-A'raaf 7:51

7:51
الذين اتخذوا دينهم لهوا ولعبا وغرتهم الحياة الدنيا فاليوم ننساهم كما نسوا لقاء يومهم هاذا وما كانوا باياتنا يجحدون ٥١
ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَهْوًۭا وَلَعِبًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ فَٱلْيَوْمَ نَنسَىٰهُمْ كَمَا نَسُوا۟ لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هَـٰذَا وَمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا يَجْحَدُونَ ٥١
ٱلَّذِينَ
ٱتَّخَذُواْ
دِينَهُمۡ
لَهۡوٗا
وَلَعِبٗا
وَغَرَّتۡهُمُ
ٱلۡحَيَوٰةُ
ٱلدُّنۡيَاۚ
فَٱلۡيَوۡمَ
نَنسَىٰهُمۡ
كَمَا
نَسُواْ
لِقَآءَ
يَوۡمِهِمۡ
هَٰذَا
وَمَا
كَانُواْ
بِـَٔايَٰتِنَا
يَجۡحَدُونَ
٥١
(Tuhan berfirman: Orang-orang kafir itu ialah) orang-orang yang menjadikan perkara-perkara ugama mereka sebagai hiburan yang melalaikan dan permainan, dan orang-orang yang telah terpedaya dengan kehidupan dunia (segala kemewahannya dan kelazatannya). Oleh itu, pada hari ini (hari kiamat), Kami lupakan (tidak hiraukan) mereka sebagaimana mereka telah lupa (tidak hiraukan persiapan-persipan untuk) menemui hari mereka ini, dan juga kerana mereka selalu mengingkari ayat-ayat keterangan Kami.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 7:51 hingga 7:52

اس طرح اس طویل منظر کی جھلکیاں سامنے آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں ۔ ابھی آخرت کی جھلکی ہے اور ساتھ ہی دنیا کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ ایک لمحہ ہم اس ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو آگ میں جل رہے ہیں ‘ جن کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے حضور پیش نہ ہوں گے اور جنہوں نے آیات الہی کا انکار کردیا تھا حالانکہ ان کے پاس کتاب مفصل آچکی تھی جو بالکل واضح تھی اور اس کی تفصیلات اللہ کے علم پر مبنی تھیں ۔ انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اپنی پسند کے ادہام اور شکوک کو اختیار کرلیا ۔ دوسرے ہی لمحہ ہم دیکھے ہیں کہ یہ یہی لوگ دنیا میں اس کتاب کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں اس میں جو ڈراوے درج ہیں ان کے ظہور کے منتظر ہیں ۔ انہیں اس انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے مگر اس منظر میں وہ واقع ہوچکا ہے ۔

یہ عجیب مناظر ہیں جو اس کتاب کے صفحات میں پیش کئے گئے اور انہیں اس انداز میں یہی کتاب معجز بیان پیش کرسکتی تھی ۔ اس طرح یہ طویل منظر کشی یہاں ختم ہوجاتی ہے اور اس پر اللہ کی جانب سے یہ آخر تبصرہ آتا ہے ‘ جس میں لوگوں کو ان مناظر قیامت کی روشن یاد دہانی کرائی جاتی ہے اور لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسولوں اور اللہ کی آیات کی تکذیب کا انجام کیا ہو گا ؟

کہا جاتا ہے کہ لوگ اس کتاب میں دیئے گئے انجام کے بارے میں انتظار کرتے ہیں تو یہ ہے اس کا انجام اور اس انجام کے دنتوبہ کی کوئی گنجائش نہ ہوگی ۔ مشکلات میں کوئی سفارش نہ چلے گی اور یہ بھی ممکن نہ ہوگا کہ آزمائش کے لئے دوبارہ چانس دیا جائے ۔

یوں یہ منظر ختم ہوتا ہے اور انسان اس منظر میں گم رہتا ہے ۔ جب یہ منظر ختم ہوتا ہے تو دیکھنے والا یہ محسوس کرتا ہے گویا وہ قیامت کے میدان سے لوٹ کر دنیا میں آگیا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پلک جھپکتے ہی ہم آخرت میں چلے گئے اور واپس آگئے ۔

یہ پورے مناظر زندگی کے سفرپر مشتمل ہیں ۔ زندگی کا طویل سفر ‘ حشر ونشر اور حساب و کتاب اور جزا و سزاء جبکہ اس سے قبل کے سبق میں انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا جبکہ انسان کے جد امجد جنت میں تھے ان کی لغزش کی وجہ سے انسان جنت سے اترا تھا ۔

یوں قرآن کریم انسان کو اور اس کے تصورات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں ‘ زمان ومکان کے دفتر لپیٹ دیئے جاتے ہیں ‘ فاصلے مٹ جاتے ہیں اور انسان کو ملکوت السماوات کی سیرکرائی جاتی ہے اور یہ سیر چند لمحات میں کرا دی جاتی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑے اور ڈرانے والوں کی باتوں کی طرف توجہ کرے اور سورة اعراف کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے کیا خوب کہا ۔

آیت ” کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِہِ أَوْلِیَاء قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُونَ (3)

” یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد ﷺ تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے ڈراؤ اور ایمان والے لوگوں کو نصیحت ہو ۔ “