Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-A'raaf 7:63

7:63
اوعجبتم ان جاءكم ذكر من ربكم على رجل منكم لينذركم ولتتقوا ولعلكم ترحمون ٦٣
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا۟ وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ٦٣
أَوَعَجِبۡتُمۡ
أَن
جَآءَكُمۡ
ذِكۡرٞ
مِّن
رَّبِّكُمۡ
عَلَىٰ
رَجُلٖ
مِّنكُمۡ
لِيُنذِرَكُمۡ
وَلِتَتَّقُواْ
وَلَعَلَّكُمۡ
تُرۡحَمُونَ
٦٣
"Adakah kamu merasa ragu-ragu dan hairan tentang datangnya kepada kamu nasihat pengajaran dari Tuhan kamu melalui seorang lelaki dari golongan kamu, untuk memberi peringatan kepada kamu, dan supaya kamu bertaqwa dan juga supaya kamu beroleh rahmat?".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 7:63 hingga 7:64
نوح علیہ السلام پر کیا گزری؟ ٭٭

نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ تم اس بات کو انوکھا اور تعجب والا نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے کسی انسان پر اپنی وحی نازل فرمائے اور اسے اپنی پیغمبری سے ممتاز کر دے تاکہ وہ تمہیں ہو شیار کر دے۔ پھر تم شرک و کفر سے الگ ہو کر عذاب الٰہی سے نجات پا لو اور تم پر گو نا گوں رحمتیں نازل ہوں۔

نوح علیہ السلام کی ان دلیلوں اور وعظوں سے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ انہیں جھٹلاتے رہے، مخالفت سے باز نہ آئے، ایمان قبول نہ کیا۔ صرف چند لوگ سنور گئے۔ پس ہم نے ان لوگوں کو اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کر دیا۔ جیسے سورۃ نوح میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کر دیئے گئے۔ پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کی کسی قسم کی مدد کرتا۔ یہ لوگ حق سے آنکھیں بند کئے ہوئے تھے، نابینا ہو گئے تھے، راہ حق انہیں آخر تک سجھائی نہ دی۔ پس اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو، اپنے دوستوں کو نجات دی۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کو تہ آب برباد کر دیا۔ جیسے اس کا وعدہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی ضرور مدد فرمایا کرتے ہیں، دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ ان کی امداد کرتا ہے۔ ان پرہیزگاروں کے لئے ہی عافیت ہے۔ انجام کار غالب اور مظفر و منصور یہی رہتے ہیں جیسے کہ نوح علیہ السلام آخر کار غالب رہے اور کفار ناکام و نامراد ہوئے۔ یہ لوگ تنگ پکڑ میں آ گئے اور غارت کر دئیے گئے۔ صرف اللہ کے رسول علیہ السلام کے اسی (‏۸۰) آدمیوں نے نجات پائی۔ ان ہی میں ایک صاحب جرہم نامی تھے جن کی زبان عربی تھی۔ ابن ابی حاتم میں یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متصلاً مروی ہے۔

صفحہ نمبر2951