Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Hajj 22:55

22:55
ولا يزال الذين كفروا في مرية منه حتى تاتيهم الساعة بغتة او ياتيهم عذاب يوم عقيم ٥٥
وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى مِرْيَةٍۢ مِّنْهُ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةً أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ ٥٥
وَلَا
يَزَالُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
فِي
مِرۡيَةٖ
مِّنۡهُ
حَتَّىٰ
تَأۡتِيَهُمُ
ٱلسَّاعَةُ
بَغۡتَةً
أَوۡ
يَأۡتِيَهُمۡ
عَذَابُ
يَوۡمٍ
عَقِيمٍ
٥٥
Dan orang-orang kafir tetap di dalam keraguan terhadap Al-Quran hingga datang kepada mereka saat kiamat secara mengejut, atau datang kepada mereka azab hari yang tidak ada kebaikan untuk mereka.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 22:55 hingga 22:57

ولا یزال ……مھین (65)

یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو اس قرآن کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس مضمون کا ذکر اس تصریح کے بعد کیا ہے کہ انبیاء و رسل دعوت کے سلسلے میں نہایت شوق اور تمنا رکھتے ہیں اور شیطان ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا ہے کیونکہ لوگ جن کے بارے میں انبیاء تمنا کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں شک رہتا ہے اس لئے کہ ان کے دلوں کے اندر دعوت اسلامی اچھی طرح بیٹھ نہیں سکی۔ یہ اسی طرح شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے یا ان پر کوئی منحوس دن آجائے۔ یعنی قیامت کے بعد کا عذاب قیامت کے دن کے لئے یوم عظیم استعمال ہوا ، کیونکہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہ ہوگا۔

اس دن میں تمام اختیارات اللہ وحدہ کے پاس ہوں گے یہاں کسی کی بادشاہت نہ ہوگی۔ دنیا کی ظاہری بادشاہت بھی کسی کے پاس نہ ہوگی۔ صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ اس دن تمام لوگوں کے فیصلے ان کی مقررہ جزاء عمل کے مطابق اللہ کرے گا۔

فالذین امنوا و عملوا الصلحت فی جنت النعیم (22 : 65) ” جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ جنات نعیم (نعمتوں والی جنتوں) میں ہوں گے۔ “

والذین کفروا و کذبوا بایتنا فائولئک لھم عذاب مھین (22 : 85) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا ، ان کے لئے رسوا کن عذاب ہوگا۔ “