Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Hajj 22:70

22:70
الم تعلم ان الله يعلم ما في السماء والارض ان ذالك في كتاب ان ذالك على الله يسير ٧٠
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۗ إِنَّ ذَٰلِكَ فِى كِتَـٰبٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌۭ ٧٠
أَلَمۡ
تَعۡلَمۡ
أَنَّ
ٱللَّهَ
يَعۡلَمُ
مَا
فِي
ٱلسَّمَآءِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
إِنَّ
ذَٰلِكَ
فِي
كِتَٰبٍۚ
إِنَّ
ذَٰلِكَ
عَلَى
ٱللَّهِ
يَسِيرٞ
٧٠
Bukankah engkau telah mengetahui bahawasanya Allah mengetahui segala yang ada di langit dan di bumi? Sesungguhnya yang demikian itu ada tertulis di dalam Kitab (Lauh Mahfuz); sesungguhnya hal itu amatlah mudah bagi Allah.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
کمال علم رب کی شان ٭٭

رب کے کمال علم کا بیان ہو رہا ہے کہ ” زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے علم کے احاطہٰ میں ہے ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں کائنات کے وجود سے پہلے ہی کائنات کا علم اسے تھا بلکہ اس نے لوح محفوظ میں لکھوا دیا تھا “۔

صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے جب کہ اس کا عرش پانی پر تھا مخلوق کی تقدیر لکھی ۔ [صحیح مسلم:2653] ‏

سنن کی حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فلک کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا ” لکھ “ اس نے دریافت کیا کہ کیا لکھوں؟ فرمایا ” جو کچھ ہونے والا ہے “ پس قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا اسے قلم نے قلم بند کر دیا ۔ [سنن ترمذي:2154،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”سو سال کی راہ میں اللہ نے لوح محفوظ کو پیدا کیا اور مخلوق کی پیدائش سے پہلے جب کہ اللہ تعالیٰ عرش پر تھا قلم کو لکھنے کا حکم دیا اس نے پوچھا کیا لکھوں فرمایا ” میرا علم جو مخلوق کے متعلق قیامت کا ہے “۔ پس قلم چل پڑا اور قیامت تک کے ہونے والے امور جو علم الٰہی میں ہے اس نے لکھ لیے۔‏“

پس اسی کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں فرما رہا ہے کہ ” کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا میں عالم ہوں “۔

پس یہ اس کا کمال علم ہے کہ چیز کے وجود سے پہلے اسے معلوم ہے بلکہ لکھ بھی لیا ہے اور وہ سب یوں ہی واقع میں ہونے والا ہے۔ اللہ کو بندوں کے تمام اعمال کا علم ان کے عمل سے پہلے ہے۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کرنے سے پہلے اللہ جانتا تھا، ہر فرماں بردار اور نافرمان اس کے علم میں تھا اور اس کی کتاب میں لکھا ہوا تھا اور ہر چیز اس کے علمی احاطے کے اندر ہی اندر اور یہ امر اللہ پر مشکل بھی نہ تھا سب کتاب میں تھا اور رب پر بہت ہی آسان۔

صفحہ نمبر5666