Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Israa' 17:110

17:110
قل ادعوا الله او ادعوا الرحمان ايا ما تدعوا فله الاسماء الحسنى ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذالك سبيلا ١١٠
قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱللَّهَ أَوِ ٱدْعُوا۟ ٱلرَّحْمَـٰنَ ۖ أَيًّۭا مَّا تَدْعُوا۟ فَلَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَٱبْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًۭا ١١٠
قُلِ
ٱدۡعُواْ
ٱللَّهَ
أَوِ
ٱدۡعُواْ
ٱلرَّحۡمَٰنَۖ
أَيّٗا
مَّا
تَدۡعُواْ
فَلَهُ
ٱلۡأَسۡمَآءُ
ٱلۡحُسۡنَىٰۚ
وَلَا
تَجۡهَرۡ
بِصَلَاتِكَ
وَلَا
تُخَافِتۡ
بِهَا
وَٱبۡتَغِ
بَيۡنَ
ذَٰلِكَ
سَبِيلٗا
١١٠
Katakanlah (wahai Muhammad): "Serulah nama " Allah" atau nama "Ar-Rahman", yang mana sahaja kamu serukan (dari kedua-dua nama itu adalah baik belaka); kerana Allah mempunyai banyak nama-nama yang baik serta mulia". Dan janganlah engkau nyaringkan bacaan doa atau sembahyangmu, juga janganlah engkau perlahankannya, dan gunakanlah sahaja satu cara yang sederhana antara itu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 17:110 hingga 18:1

یہ تو اوہام جاہلیت ہیں اور بت پرستی کی واہی باتیں ہیں کہ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرو ، ایسی باتوں کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

اب پیغمبر ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ نماز میں ، صبر اور خفا میں میانہ روی اختیار کریں ، کیونکہ وہ لوگ حضور ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر مذاق اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اور اس طرح کر نا اللہ کے حضور حاضر ہوتے وقت زیادہ مناسب بھی ہے۔

ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔ (011) ۔

جس طرح سورت کے مضامین کا آغاز یوں ہوا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اس کا کوئی شریک اور بیٹا نہیں ہے۔ اور اس کو دلی اور مدد گار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ علی و کبیر ہے ، تو اسی مضمون پر اس سورت کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے مضامین کا محور یہی ہے۔ انہی مضامین سے اس کا آغاز ہوا اور انہی پر اس کا اختتام ہوا۔