Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Israa' 17:25

17:25
ربكم اعلم بما في نفوسكم ان تكونوا صالحين فانه كان للاوابين غفورا ٢٥
رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِى نُفُوسِكُمْ ۚ إِن تَكُونُوا۟ صَـٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلْأَوَّٰبِينَ غَفُورًۭا ٢٥
رَّبُّكُمۡ
أَعۡلَمُ
بِمَا
فِي
نُفُوسِكُمۡۚ
إِن
تَكُونُواْ
صَٰلِحِينَ
فَإِنَّهُۥ
كَانَ
لِلۡأَوَّٰبِينَ
غَفُورٗا
٢٥
Tuhan kamu lebih mengetahui akan apa yang ada pada hati kamu; kalaulah kamu orang-orang yang bertujuan baik mematuhi perintahNya, maka sesungguhnya dia adalah Maha Pengampun bagi orang-orang yang bertaubat.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 17:22 hingga 17:25

خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔

اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔

موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔

یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔