Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Israa' 17:29

17:29
ولا تجعل يدك مغلولة الى عنقك ولا تبسطها كل البسط فتقعد ملوما محسورا ٢٩
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ ٱلْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًۭا مَّحْسُورًا ٢٩
وَلَا
تَجۡعَلۡ
يَدَكَ
مَغۡلُولَةً
إِلَىٰ
عُنُقِكَ
وَلَا
تَبۡسُطۡهَا
كُلَّ
ٱلۡبَسۡطِ
فَتَقۡعُدَ
مَلُومٗا
مَّحۡسُورًا
٢٩
Dan janganlah engkau jadikan tanganmu terbelenggu di lehermu, dan janganlah pula engkau menghulurkannya dengan sehabis-habisnya, kerana akibatnya akan tinggalah engkau dengan keadaan yang tercela serta kering keputusan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت 29 وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ یہ استعارہ ہے بخل اور کنجوسی کا۔ یعنی آپ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کے ساتھ باندھ کر کسی کو کچھ دینے سے خود کو معذور نہ کرلیں۔وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ بعض اوقات انسان کے اندر نیکی کا جذبہ اس قدر جوش کھاتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا دینا چاہتا ہے۔فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًاایسا نہ ہو کہ ایک وقت میں تو جذبات میں آکر انسان سارا مال قربان کر دے مگر بعد میں پچھتائے کہ یہ میں نے کیا کردیا ؟ اب کیا ہوگا ؟ اب میری اپنی ضروریات کہاں سے پوری ہوں گی ؟ چناچہ انسان کو ہر حال میں اعتدال کی روش اختیار کرنی چاہیے۔