Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Israa' 17:41

17:41
ولقد صرفنا في هاذا القران ليذكروا وما يزيدهم الا نفورا ٤١
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لِيَذَّكَّرُوا۟ وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًۭا ٤١
وَلَقَدۡ
صَرَّفۡنَا
فِي
هَٰذَا
ٱلۡقُرۡءَانِ
لِيَذَّكَّرُواْ
وَمَا
يَزِيدُهُمۡ
إِلَّا
نُفُورٗا
٤١
Dan sesungguhnya Kami telah menerangkan jalan-jalan menetapkan iktiqad dan tauhid dengan berbagai cara di dalam Al-Quran ini supaya mereka beringat (memahami dan mematuhi kebenaran); dalam pada itu, penerangan yang berbagai cara itu tidak menjadikan mereka melainkan bertambah liar.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

قرآن کریم عقیدہ توحید لے کر آیا۔ اس عقیدے کو قرآن نے مختلف اسالیب سے بیان کیا اور اس پر بیشمار دلائل دئیے۔ اور کئی طریقے اختیار کیے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور فطری دلائل اور فطری اور منطقی طرز استدلال کو سمجھیں اور توحید کا فطری عقیدہ قبول کرلیں اور اس کائنا ت میں اللہ وحدہ لاشیرک کی ذات پر جو آثار و دلائل موجود ہیں ان پر غور کریں مگر ان لوگوں نے اس کے سوا کچھ نہ کیا کہ انہوں نے قرآن سے نفرت کی۔ کیونکہ انہیں ڈر یہ تھا کہ اگر انہوں نے قرآن کو سنا اور پڑھا تو وہ ان عقائد باطلہ پر قائم نہ رہ سکیں گے ، جن کو وہ مضبوطی سے پکڑے رہنا چاہتے ہیں ، کیونکہ ان کے عقائد شرکیہ ، اوہام اور خرافات پر مبنی تھے ور قرآن کے فطری اور منطقی استدلال کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتے تھے۔

جس طرح اس سے قبل لڑکیوں کی نسبت الی اللہ کے معامل میں قرآن کریم نے ان کے خیالات کے مطابق بات کی تھی کہ خود اپنے لئے تو لڑکیوں کو پسند نہیں کرتے مگر اللہ کے لئے ثابت کرتے ہیں ، اب یہاں ان کے عقیدہ شرکیہ کو فرض کرکے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی دوسرے خدا بھی ہوتے تو وہ اللہ کی ذات تک پہنچے کی کوء نہ کوئی سبیل نکالتے۔ وہ اللہ کا قرب حاصل کرتے۔