Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Israa' 17:44

17:44
تسبح له السماوات السبع والارض ومن فيهن وان من شيء الا يسبح بحمده ولاكن لا تفقهون تسبيحهم انه كان حليما غفورا ٤٤
تُسَبِّحُ لَهُ ٱلسَّمَـٰوَٰتُ ٱلسَّبْعُ وَٱلْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِۦ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًۭا ٤٤
تُسَبِّحُ
لَهُ
ٱلسَّمَٰوَٰتُ
ٱلسَّبۡعُ
وَٱلۡأَرۡضُ
وَمَن
فِيهِنَّۚ
وَإِن
مِّن
شَيۡءٍ
إِلَّا
يُسَبِّحُ
بِحَمۡدِهِۦ
وَلَٰكِن
لَّا
تَفۡقَهُونَ
تَسۡبِيحَهُمۡۚ
إِنَّهُۥ
كَانَ
حَلِيمًا
غَفُورٗا
٤٤
Langit yang tujuh dan bumi serta sekalian makhluk yang ada padanya, sentiasa mengucap tasbih bagi Allah; dan tiada sesuatupun melainkan bertasbih dengan memujiNya; akan tetapi kamu tidak faham akan tasbih mereka. Sesungguhnya Ia adalah Maha Penyabar, lagi Maha Pengampun.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 17:40 hingga 17:44

حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔

مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔

اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔

شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔