Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Israa' 17:72

17:72
ومن كان في هاذه اعمى فهو في الاخرة اعمى واضل سبيلا ٧٢
وَمَن كَانَ فِى هَـٰذِهِۦٓ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًۭا ٧٢
وَمَن
كَانَ
فِي
هَٰذِهِۦٓ
أَعۡمَىٰ
فَهُوَ
فِي
ٱلۡأٓخِرَةِ
أَعۡمَىٰ
وَأَضَلُّ
سَبِيلٗا
٧٢
Dan (sebaliknya) sesiapa yang berada di dunia ini (dalam keadaan) buta (matahatinya), maka ia juga buta di akhirat dan lebih sesat lagi jalannya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 17:71 hingga 17:72

یہ ایک نیا منظر ہے ، مناظر قیامت میں سے۔ تمام لوگ میدان میں حشر میں ہوں گے۔ ہر جماعت کو اس کے نام و عنوان اور اس کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اگر کسی کا کوئی نبی ہوگا تو وہ ان کا امام ہوگا۔ یا دنیا میں اگر ان کا کوئی پیشوا اور مقتداء ہوگا تو اس کے ساتھ۔ امام کے سامنے ان کو ان کا نامہ اعمال تھمایا جائے گا۔ دائیں ہاتھ ، جن کو اعمال نامے دئیے جا رہے ہیں وہ ان کو خوشی خوشی سے پرھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اعمال کا پورا پورا اجر ان کو مل رہا ہے۔ ایک فقیل (وہ دھاگہ جو گٹھلی کے درمیان ہوتا ہے) کے برابر بھی ان پر ظلم نہ ہوگا۔ جس شخص نے اس دنیا میں دلائل ہدایت کے دیکھنے میں اندھے پن کا ثبوت دیا ، وہ وہاں بھی اندھا ہوگا اور اپنے اعمال نامے میں کوء خیر و ہدایت نہ دیکھ سکے گا۔ اور جزاء پھر معلو ہے کیا ہوگی ؟ سیاق کلام کے اس منظر کو اس طرح بتاتا ہے کہ جس طرح وہ شخص قیامت میں اندھا ہوگا۔ ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوگا۔ کوئی ہاتھ پکڑ کر اسے راہ راست پر لے جانے والا نہ ہوگا۔ نہ کوئی ایسا ذریعہ ہوگا۔ جس کی وجہ سے وہ راہ معلوم کرسکے۔ بس اس شخص کو اس منظر میں یوں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ ادھر ادھر پھر رہا ہے۔ آگے قاری پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ خود سوچ لے کہ ایسے شخص کا انجام کیا ہوا یا ہوگا ؟