Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Jinn 72:3

72:3
وانه تعالى جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا ٣
وَأَنَّهُۥ تَعَـٰلَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا ٱتَّخَذَ صَـٰحِبَةًۭ وَلَا وَلَدًۭا ٣
وَأَنَّهُۥ
تَعَٰلَىٰ
جَدُّ
رَبِّنَا
مَا
ٱتَّخَذَ
صَٰحِبَةٗ
وَلَا
وَلَدٗا
٣
`Dan (ketahuilah wahai kaum kami!) Bahawa sesungguhnya: tertinggilah kebesaran dan keagungan Tuhan kita daripada beristeri atau beranak.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

وانہ .................... ولدا (27 : 3) ” اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ وارفع ہے اس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے “۔ الجد کے معنی حصہ اور نصیب کے ہوتے ہیں۔ یعنی قدر اور مقام ، عظمت اور اقتدار۔ یہ سب امور لفظ ” جد “ میں شامل ہیں اور اس کے پرتو ہیں۔ لیکن اجمالی مفہوم یہ ہے کہ اللہ بہت ہی بلند مرتبے والا ہے۔ وہ بہت عظیم اور جلیل القدر ہے۔ اس لئے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا ہے اور نہ بیٹا بنایا ہے۔

عربوں میں یہ غلط خیال تھا کہ ملائکہ اللہ کی لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکیاں اس طرح پیدا ہوئیں کہ اللہ کی بیوی جن تھی۔ خود جنوں کی زبانی اس کہانی اور افسانے کی تردید کردی گئی کہ اللہ ان چیزوں سے پاک وصاف ہے۔ اور انہوں نے بڑی کراہت کے ساتھ اس کی طرف اس غلط نسبت کی نفی کردی کہ نہ اس قسم کی کوئی رشتہ داری ہے اور نہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ گویا یہ اللہ کی بہت بڑی توہین ہے۔ اس قسم کے تمام تصورات اور اس سے ملتے جلتے تصورات غلط اور مشرکانہ ہیں ، چاہے وہ کسی شکل و صورت میں ہوں۔ مشرکانہ کہانیاں ہوں ، یا اقانیم کے افسانے ہوں یا کوئی اور صورت ہو۔