Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Kahfi 18:101

18:101
الذين كانت اعينهم في غطاء عن ذكري وكانوا لا يستطيعون سمعا ١٠١
ٱلَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِى غِطَآءٍ عَن ذِكْرِى وَكَانُوا۟ لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا ١٠١
ٱلَّذِينَ
كَانَتۡ
أَعۡيُنُهُمۡ
فِي
غِطَآءٍ
عَن
ذِكۡرِي
وَكَانُواْ
لَا
يَسۡتَطِيعُونَ
سَمۡعًا
١٠١
(Iaitu) orang-orang yang matanya telah tertutup daripada melihat tanda-tanda yang membawa kepada mengingatiKu, dan mereka pula tidak dapat mendengar sama sekali.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 18:99 hingga 18:101

یہ ایک ایسا منظر ہے جو مختلف انسانی گروہوں کی عکاسی کر رہا ہے ، جس میں مختلف گروپ نظر آ رہے ہیں جو مختلف رنگوں ، مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ سب لوگ ایک وسیع میدان میں اٹھائے گئے ہیں اور یہ لوگ بغیر کسی نظام اور ترتیب کے ایک دوسرے کے خلاف گتھم گتھا ہو رہے ہیں ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کیوں ادھر سے ادھر بھاگ رہا ہے۔ یہ لوگ دریا کی موجوں کی طرح ایک دور سے کے ساتھ ٹکراتے ہیں اور باہم مل جاتے ہیں بغیر کسی انتظام کے۔ پھر ایک صور پھونکا جائے گا۔

ونفخ فی الصور فجمعنھم جمعاً (81 : 99) ” پھر صور پھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔ “ اب وہ ایک صف میں منظر طریقے سے کھڑے ہیں۔

پھر وہ کافر جنہوں نے اللہ کی یاد سے منہ موڑا اور جو اس طرح نظر آ رہے تھے کہ شاید ان کی آنکھوں پر پردے ہیں اور شاید ان کے کانوں میں سننے کی قوت ہی نہیں ہے۔ ان پر جنم پیش ہوگی ۔ اب یہ لوگ جہنم سے اس طرح منہ نہ موڑ سکیں گے جس طرح یہ دنیا میں ہایت سے منہ موڑ رہے تھے۔ اب ان میں موڑنے کی طاقت نہ ہوگی۔ اب ان کی آنکھوں کے اوپر سے پردے ہٹ جائیں گے اب وہ سرکشی اور اعراض کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے یعنی جزاء پوری کی پوری جزائ۔

قرآن کریم نے یہاں اس منظر کو اس طرح پیش کیا ہے کہ ان کے اعراض کی تصویر کو اور ان کے لئے جہنم کی تپیش کو ایک دوسرے کے بالمقبال پیش کیا ہے دونوں چیزیں عملاً حرکت کرتے ہوئے منظر کی صورت میں پیش کی گئی ہیں اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کلام ہے اور اس تقابلی منظر کشی پر پھر تبصرہ ، نہایت ہی ختلخ اور حقارت آمیز تبصرہ یوں کیا جاتا ہے !