Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Kahfi 18:2

18:2
قيما لينذر باسا شديدا من لدنه ويبشر المومنين الذين يعملون الصالحات ان لهم اجرا حسنا ٢
قَيِّمًۭا لِّيُنذِرَ بَأْسًۭا شَدِيدًۭا مِّن لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًۭا ٢
قَيِّمٗا
لِّيُنذِرَ
بَأۡسٗا
شَدِيدٗا
مِّن
لَّدُنۡهُ
وَيُبَشِّرَ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
ٱلَّذِينَ
يَعۡمَلُونَ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
أَنَّ
لَهُمۡ
أَجۡرًا
حَسَنٗا
٢
(Bahkan keadaannya) tetap benar lagi menjadi pengawas turunnya Al-Quran untuk memberi amaran (kepada orang-orang yang ingkar) dengan azab yang seberat-beratnya dari sisi Allah, dan memberi berita gembira kepada orang-orang yang beriman yang mengerjakan amal-amal soleh, bahawa mereka akan beroleh balasan yang baik.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 18:2 hingga 18:4

اس سورت کا آغاز نہایت ہی پر اعتماد اور فیصلہ کن انداز میں ہو رہا ہے ۔ اللہ کی تعریف اس بات پر کی جا رہی ہے کہ اس نے اپنے بندے پر یہ کتاب اتاری۔ یہ ایک سیدھی کتاب ہے ، اس کی تعلیمات سیدھی ہیں اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ ان میں کوئی ٹیڑھ پن اور ہیر پھیر نہیں ہے ، اس میں لاگ لپیٹ کے بغیر بات کی جا رہ ی ہے۔ یہ کیوں ؟

لینذرباسا شدیداً من لدنہ (81 : 2) ” تکاہ لوگوں کو خدا کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراوے۔ “ پہلی ہی آیت سے نشان منزل آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کتاب کا نظریہ کیا ہے ، بغیر کسی التباس اور بغیر کسی پیچیدگی کے ۔ اللہ نے یہ کتاب نازل کی ہے او اللہ قابل حمد وثناء ہے کہ اس نے یہ احسان کیا۔ محمد اللہ کے بندے ہیں جیسا کہ متام لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک۔

او یہ کتاب کیسی ہے ؟ اس میں کوئی ٹیڑھ پن نہیں ہے۔ یہ قیم ہے۔ اس کی تعلیمات کے سیھدے پن کا اظہار ایک دفعہ یوں کیا جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی ٹیڑھ پن نہیں اور دوسری مرتبہ یوں کہا جاتا ہے کہ یہ قیم ہے یعنی سیدھی۔ یعنی اس کتاب اور اسلام کے صراط مستقیم ہونے کی تاکید شدید۔

اور یہ کتاب کیوں نازل کی گئی ؟

لینذر باسا شدیداً من لدنہ وبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ان لھم اجرا حسناً (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دے دے کہ ان کے لئے اچھا اجر ہے۔ “

اس پوری سورت میں سخت اور قطعی الفاظ میں ڈراوا بھی ہے۔ ڈراوے کا آغاز تو اجمالی اور اصولی طور پر ہوتا ہے۔

لینذر باسا شدیداً من لذنہ (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کردے۔ اور اس کے بعد پھر مخصوص طور پر مشرکین کو ڈرایا جاتا ہے۔

وینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولدا۔ اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ “ لیکن انذار اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ مومنین کے لئے تبشیر بھی ہے۔ ان لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جو عمل صالح کرتے ہیں۔ یہاں ایمان کے بعد عمل صالح کی قید لگائی گئی ہے۔

الذین یعملون الصلحت (81 : 2) یہ اس لئے لگائی گئی ہے کہ عمل صالح ایمان کی دلیل ہوتا ہے اور ظاہری عمل کی بنا پر کوئی کسی کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے۔

اس کے بعد ان لوگوں کی غلط سوچ اور غلط انداز فکر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کائنات کے سب سے بڑے اور سب سے مشکل اور نازک مسئلے کے بارے کس قدر غلط سوچ رکھتے ہیں یعنی اس کائنات کے بارے میں اور اس کے خلاق کے بارے میں عقائد کے مسئلے کے متعلق۔